Google_plus Pinterest Vimeo RSS
Showing posts with label news. Show all posts

ایس ایس پی ملیر راؤ انوار کا تبادلہ


کراچی پولیس کے ایک سینئر افسر راؤ انوار نے کہا ہے کہ گزشتہ شب متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے دو کارکنوں کو گرفتار کیا گیا ہے جنہوں نے ہندوستان کے خفیہ ادارے 'را' سے تربیت حاصل کی تھی۔
کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ایس ایس پی ملیر راؤ انوار نے کہا کہ گرفتار ملزمان کے نام طاہرعرف لمبا اور جنید ہیں جنہوں نے ہندوستان جا کر تربیت حاصل کی۔
انہوں نے اس موقع پر ایم کیو ایم کو 'دہشت گرد' جماعت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس پر پابندی لگنی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ وہ حکومت کو سفارش کریں گے کہ ایم کیو ایم پر پابندی لگائی جائے، متحدہ طالبان سے خطرناک جماعت ہے اس پر بھی دیگر جماعتوں کی طرح پابندی عائد ہونی چاہیے۔
گرفتار ہونے والا ایک ملزم۔ ڈان نیوز اسکرین گریب۔
گرفتار ہونے والا ایک ملزم۔ ڈان نیوز اسکرین گریب۔
انہوں نے بتایا کہ سرکاری ملازم دونوں ملزمان نے اعتراف کیا ہے کہ انہوں نے ہندوستان جاکر اپنے نام تبدیل کیے اور 'را' سے مسلح تربیت حاصل کی۔
راؤ انوار نے بتایا کہ ہندوستان میں رام نامی صوبیدار ایم کیوایم کے لڑکوں کو تربیت دیتا ہے۔
انہوں نے ایم کیو ایم کو طالبان سے بھی برا قرار دیا اور کہا کہ ایم کیوایم دشمن ملک کے ساتھ مل کر اپنے لوگوں کو مارتی ہے۔
ایس ایس پی ملیر نے کہا کہ ایم کیو ایم پاکستان کے خلاف کام کررہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ لندن جانے والوں کے خرچے خدمت خلق فاؤنڈیشن سے ادا کئے جاتے ہیں۔ ہمارے پاس ایم کیوایم کے خلاف اور بھی بہت سے ثبوت ہیں۔
راؤ انوار نے انکشاف کیا کہ سارا کام ایم کیو ایم قائد الطاف حسین اور رہنما ندیم نصرت اور محمدانور کی ہدایت پر کیا جاتا ہے۔
ملزم طاہر لمبا نے میڈیا کے سامنے کہا کہ انڈیا میں سنی نامی ایم کیو ایم کے کارکن نے انہیں ایک کیمپ تک پہنچایا۔
انہوں نے اعتراف کیا کہ انہیں ہندوستانی ایجنسیوں نے جدید اسلحہ چلنے کی تربیت دی گئی جبکہ انہیں محمد انور نے ہندوستان جانے کی ہدایت کی۔
خیال رہے کہ ایک ماہ قبل رینجرز نے متحدہ کے مرکز نائن زیرو پر چھاپہ مارکر انتہائی مطلوب ملزمان کو گرفتار کیا تھا جبکہ اسلحہ کو بھی قبضے میں لیا گیا تھا۔
اس سے قبل سابق ایم کیو ایم کے کارکن صولت مرزا نے بھی پارٹی رہنماؤں کے خلاف سنگین الزامات عائد کیے تھے۔
ایس ایس پی ملیر راؤ انوار کا تبادلہ
دوسری جانب ترجمان پولیس کا کہنا ہے کہ ایس ایس پی ملیر راؤ انوار کا تبادلہ کردیا گیا ہے۔
ان کے مطابق راؤ انوار نے اختیارات کا غلط استعمال کیا اور عہدے سے بڑھ کر باتیں کی۔
انہوں نے بتایا کہ راؤ انوار کو سی سی پی او رپورٹ کرنے کی ہدایت کی ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ان کا تبادلہ وزیراعلیٰ قائم علی شاہ کی جانب سے نوٹس لیے جانے کے بعد آئی سندھ کے احکامات کی روشنی میں کیا گیا۔

فیس بک وڈیو کالنگ فیچر متعارف


نیویارک : سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک نے مائیکروسافٹ، گوگل اور ایپل مشکلات میں ڈالتے ہوئے اپنا نیا وڈیو کالنگ فیچر متعارف کروا دیا ہے۔
فیس بک کی جانب سے اس کے میسجنگ پلیٹ فارم سے وڈیو کالنگ کا فیچر متعارف کرایا گیا ہے جس کے ذریعے اب صارفین ایک بٹن دبا کر اپنے دوستوں سے ویڈیو چیٹ کرسکیں گے۔
یہ نیا فیچر فیس بک کے صارفین میسنجر اپلیکشن پر استعمال کرسکیں گے جو کہ گوگل کے ہینگ آﺅٹس، مائیکروسافٹ کے اسکائپ اور ایپل کے فیس ٹائم وغیرہ سے ملتا جلتا ہے۔
فیس بک کے مطابق 'ہمارے ڈویلپرز کم رفتار والے موبائل فون نیٹ ورک پر بھی کام کرنے والی وڈیو فیچر کو تیار کرنے میں کامیاب رہے ہیں اور ایل ٹی ای و وائی فائی دونوں پر یہ کام کرسکے گا۔
صارفین کو میسنجر اپلیکشن میں کیمرہ آئیکون پر کلک کرکے کال کرنا ہوگی۔
یہ فیچر انڈرائڈ اور آئی فون صارفین کے لیے متعارف کرایا گیا ہے اور اسے فیس بک پر اسکائپ کا متبادل قرار دیا جارہا ہے۔

سابق کرنل اور میجر کروڑوں کی ڈکیتی میں ملوث


راولپنڈی: مقامی پولیس نے وزارتِ داخلہ کو ایئرپورٹ پر ایک بڑی ڈکیتی میں ملوث فوج کے دو سابق افسروں کے نام اس درخواست کے ساتھ ارسال کیے ہیں کہ انہیں ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں شامل کیا جائے۔
دبئی میں ان کے ایک ساتھی کی گرفتاری کے لیے انٹرپول کو بھی ایک درخواست بھیجی گئی ہے۔
بدھ کو ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ریجنل پولیس افسر (آر پی او) محمد وصال فخر سلطان راجہ نے کہا کہ اس ڈکیتی میں ملوث پانچ افراد کو گرفتار کرکے تین کروڑ 86 ہزار روپے برآمد کرلیے ہیں، اور اس واردات میں استعمال کی گئی گاڑی بھی پولیس کو مل گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’’فوج کے دو ریٹائرڈ افسران، ایک سابق کرنل اور ایک سابق میجر براہِ راست اس ڈکیتی میں ملوث تھے، اور وہ ایئرپورٹ پر موجود تھے۔ انہیں جلد ہی گرفتار کرلیا جائے گا، اور بقایا رقم بھی ان سے بازیاب کرلی جائے گی۔‘‘
آر پی او نے کہا کہ پولیس کا ایک حاضر سروس سب انسپکٹر کو بھی گرفتار کیا گیا تھا، ساتھ ہی انہوں نے سات دن کے اندر ڈاکوؤں کا پتہ لگانے اور کروڑوں کی رقم ان سے برآمد کرنے پر پولیس کی تعریف کی۔
یاد رہے کہ 22 اپریل کو ان ڈاکوؤں میں سے دو پولیس کی وردی میں ملبوس اور ایک تیسرے نے خود کو ایک انٹیلی جنس ادارے کا عہدے دار ظاہر کرتے ہوئے کراچی سے سات کروڑ کی رقم کے ساتھ آنے والے ایک منی چینجر کو بے نظیر انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے اغوا کرلیا تھا۔ ان لوگوں نے اس کے پاس موجود رقم چھین کر اسے سڑک کے کنارے پھینک گئے تھے۔
آر پی او نے کہا کہ ان میں سے گرفتار ہونے والے تین افراد گجرانوالہ کے رہنے والے ہیں، جبکہ اس گینگ کا ایک رکن دبئی میں مقیم ہے۔
انہوں نے کہا کہ دبئی میں مقیم ملزم کو انٹرپول کے ذریعے لایا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ فوج کے دو سابق عہدے دار جو ایک انٹیلیجنس ایجنسی سے منسلک رہے تھے، انہیں ملک سے فرار ہونے سے روکا جائے گا۔
آر پی او نے کہا ’’انٹیلی جنس ادارے کے یہ دونوں عہدے دار اس ڈکیتی میں براہِ راست ملوث ہیں، اس لیے کہ ڈکیتی کے دوران یہ دونوں افسران بے نظیر بھٹو انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر موجود تھے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ ڈکیتی کے واقعہ کی سی سی ٹی وی فوٹیج میں راولپنڈی پولیس کے سب انسپکٹر کی شناخت ہوئی تھی، جنہیں گرفتار کرلیا گیا۔ بعد میں تفتیش کے دوران سب انسپکٹر نے اپنے دو ساتھیوں کی شناخت کے بارے میں انکشاف کیا، جس کے بعد ان کی گرفتاری عمل میں آئی۔
ان کا کہنا تھا کہ ایئرپورٹ کے احاطے پر پولیس چوکی کی کڑی نگرانی کی جائے گی اور یہاں تعینات عملے کا تبادلہ کردیا جائے گا۔
آر پی او نے کہا کہ منی چینجر ایئرپورٹ پر اس قدر بڑی رقم کے تبادلے سے پہلے مقامی پولیس کو مطلع کرنا چاہیے تھا، تاکہ انہیں سیکیورٹی فراہم کی جاسکتی۔
انہوں نے کہا کہ تین گاڑیاں اس واردات میں استعمال کی گئی تھیں، تاہم کسی سرکاری گاڑی کا استعمال نہیں کیا گیا۔
پولیس ذرائع کے مطابق ایک دس رکنی گینگ اس ڈکیتی میں ملوث تھا، ان میں پانچ کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔ ذارائع کا کہنا ہے کہ پولیس کی جانب سے بازیاب کی گئی رقم سب انسپکٹر نے ایک سیاہ ٹرنک میں چھپائی تھی، جو اس کو محکمے کی جانب سے دیا گیا تھا۔ یہ ٹرنک ایف-11 میں اس کی بہن کے گھر میں چھپایا گیا تھا۔

عبوری چالان کے مطابق ایان علی قصوروار قرار


اسلام آباد: منی لانڈرنگ کے الزام میں گرفتار سپر ماڈل ایان علی کے خلاف کسٹم حکام کی جانب سے پیش کیے گئے عبوری چالان میں انہیں قصوروار قرار دے گیا ہے۔
تاہم حکام گرفتاری کے وقت ایان علی سے ضبط کیے گئے موبائل فون سے ڈیلیٹ کیا گیا ڈیٹا دوبارہ بازیاب کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔
عدالت میں پیش کیے گئے عبوری چالان کے مطابق اسلام آباد کے ماڈل کسٹم کلیکٹر (ایم سی سی) نے بینظیر بھٹو انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے گرفتاری کے وقت ایان علی سے دو موبائل فون برآمد کیے تھے۔
یاد رہے کہ ماڈل ایان علی کو رواں برس 14 مارچ کو اسلام آباد کے بینظیر انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے دبئی جاتے ہوئے اُس وقت حراست میں لیا گیا تھا جب دورانِ چیکنگ ان کے سامان میں سے 5 لاکھ امریکی ڈالر برآمد ہوئے تھے۔
عبوری چالان کے مطابق دونوں فون 16 مارچ کو انٹیلی جنس بیورو (آئی بی) کو ڈی کوڈنگ کے لیے دے دیئے گئے تھے، تاہم آئی بی ان فونز سے ڈیٹا دوبارہ حاصل کرنے میں ناکام ہوچکی ہے اور اس بات سے تحریری طور پر کسٹم حکام کو آگاہ کردیا گیا۔
20 اپریل کو یہ فون فیڈرل انوسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کو ڈی کوڈنگ کے لیے دیئے گئے، جس کے جواب کا انتظار کیا جارہا ہے۔
عبوری چالان میں کسٹم حکام کا کہنا ہے کہ تفتیش کاروں نے بھی 20 اپریل کو کسٹمز انٹیلی جنس سے ماڈل ایان علی کے قبصے سے برآمد ہونے والی رقم کی تفصیلات طلب کی ہیں۔
کسٹم حکام کی جانب سے راولپنڈی کی سیشن کورٹ میں ملزمہ کے خلاف 24 اپریل کو عبوری چالان پیش کیا گیا تھا۔
تفتیش کے دوران ایف آئی اے سے ایان علی کے بیرون ملک سفر کی تفصیلات بھی طلب کی گئیں، جن کے مطابق 2010 سے 2015 کے دوران سپر ماڈل نے 81 بار پاکستان سے باہر سفر کیا۔
عبوری چالان کے مطابق 19 مارچ کو ایان علی نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ ان کے بیگ سے برآمد ہونے والی رقم ان کی ذاتی تھی، جو انھوں نے بحریہ ٹاؤن کراچی میں اپنے 5 پلاٹوں کی فائلز فروخت کرکے حاصل کی تھی۔
24 مارچ کو ایان کے وکیل کی جانب سے پلاٹوں کی فروخت سے متعلق دستاویزات جمع کرائی گئیں، جن کے مطابق یہ پلاٹس 5 لاکھ، 6 ہزار، 8 سو امریکی ڈالر میں فروخت کیے گئے۔
عبوری چالان کےمطابق ایان علی نے تفتیش کاروں کو بتایا کہ وہ گرفتاری سے 5 دن قبل ہی دبئی سے اسلام آباد آئیں تھیں تاکہ پلاٹس ٹرانسفر کرکے رقم حاصل کرسکیں۔
چالان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ تفتیش کاروں نے پلاٹوں کو خریدنے والے شخص اور مڈل مین کو بھی نوٹسز جاری کیے کہ وہ تفتیش کاروں کے سامنے پیش ہوں لیکن وہ ایسا کرنے میں ناکام رہے۔
21 اپریل کو مڈل مین کی جانب سے جمع کرائے گئے جواب میں کہا گیا کہ انھوں نے ماڈل ایان کو غیر ملکی کرنسی میں رقم ادا کی تھی۔
چالان میں کہا گیا ہے کہ شواہد کے مطابق یہ ثابت ہوگیا ہے کہ ایان علی اسمگلنگ میں ملوث تھیں۔
عدالت کو پیش کیے گئےعبوری چالان کے مطابق غیر ملکی کرنسی ملزمہ کی تھی ، جنھوں نے یہ رقم مڈل مین اور پلاٹ خریدنے والے شخص سے حاصل کی، جو تفتیش کاروں کے سامنے پیش ہونے میں ناکام رہے۔
چالان میں مزید کہا گیا ہے کہ ملزمہ کسٹم ایکٹ اور فارن ایکس چینج ریگولیٹری ایکٹ برائے 1947 کی رُو سے تحریری اجازت کے بغیر اس کرنسی کو بیرون ملک نہیں لے جاسکتیں ۔
لہٰذا چالان کے مطابق ایان علی قصوروار ہیں۔

ایک سے زائد شادیاں بناسکتی ہیں دل کا مریض


شادی شدہ ہونا کسی مرد کی زندگی کو طویل کرنے کے امکانات کو بڑھا سکتا ہے تاہم ایک سے زائد بیویوں کی موجودگی جان لیوا بھی ثابت ہوسکتی ہے۔
یہ دعویٰ سعودی عرب میں ہونے والی ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آیا ہے۔
جدہ کے کنگ فیصل اسپیشلسٹ ہاسپٹل اینڈ ریسرچ سینٹر کی تحقیق کے مطابق ایک سے زائد شادیوں کی صورت میں شوہر کے اندر امراض قلب کا خطرہ 4 گنا بڑھ جاتا ہے۔
محقق ڈاکٹر امین اللہ کے مطابق ایسے شواہد موجود ہیں کہ شادی شدہ افراد کی صحت مجموعی طور پر بہتر اور ان کی عمریں طویل ہوتی ہیں تاہم ہم نے پہلی بار ایک سے زائد شادیوں سے دل کی صحت پر پڑنے والے اثرات کا جائزہ لیا ہے۔
تحقیق میں 687 شادی شدہ افراد کا جائزہ لیا گیا جن کی اوسط عمر 59 برس تھی جن میں سے 19 فیصد افراد کی 2 شادیاں ہوچکی تھیں، 10 فیصد کی تین جبکہ 3 فیصد مردوں کی 4 چار بیویاں تھیں۔
تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ ایک سے زائد شادیوں کے نتیجے میں مردوں میں خون کی شریانوں سے متعلقہ امراض کا خطرہ 4.6 گنا زیادہ ہوجاتا ہے جو آگے بڑھ کر دل کے امراض کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔
ڈاکٹر امین کا کہنا تھا کہ ہم نے بیویوں کی بڑھتی تعداد اور شریانوں کے بلاک ہونے کے درمیان تعلق کو دریافت کیا ہے جس کی ممکنہ وجوہات جذباتی اور مالی دباﺅ ہوسکتی ہیں۔
تاہم ان کا کہنا تھا کہ ابھی اس حوالے سے مزید تحقیق کی ضرورت ہے تاکہ اس تعلق کی مستند تصدیق کی جاسکے۔

زمین کے خاتمے میں 1000 سال باقی


سڈنی: برطانیہ کے معروف سائنسدان اسٹیفن ہاکنگ نے دعویٰ کیا ہے کہ انسان کے لیے ایک ہزار سال سے زیادہ اس زمین میں رہنے کے لیے گنجائش نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ انسان اپنی بقا چاہتا ہے تو اسے ایک ہزارسال کے اندر اندر کسی دوسرے سیارے پر بستیاں بسانی ہوں گی، ورنہ کرۂ ارض سے نوعِ انسانی کا نام ونشان مٹ جائے گا۔
معروف طبیعات دان اسٹیفن ہاکنگ نے پچھلے ہفتے سڈنی کے اوپیرا ہاؤس میں عوام کے ایک جم غفیر سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نوعِ انسانی کو زمین پر مزید ایک ہزار سال تک رہنے کی مُہلت ہے۔ اب یہ انسان پر منحصر ہے کہ وہ ایک ہزار سال میں کوئی نئی دنیا آباد کرتا ہے یا فنا کا انتظار کرتا ہے۔
اسٹیفن ہاکنگ کا خیال ہے کہ سیارہ زمین کی عمر ایک ہزار سال سے زیادہ نہیں رہ گئی ہے، اس لیے انہوں نے نوعِ انسانی کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ایک ہزارسال کے عرصے میں کسی اور سیارے پر انسانی آبادی کا بندوبست کرلیں ورنہ کائنات سے ان کا نام و نشان معدوم ہوجائے گا۔
ان کے اس دعوے نے سائنسدانوں کے لیے کئی نئے سوالات پیدا کیے ہیں تاہم ابھی تک اس کے دعوے کی تائید یا مخالفت میں کوئی رد عمل سامنے نہیں آیا۔
انہوں نے کہا کہ انسان نیچے دیکھنے کے بجائے اوپر دیکھے اور نئے سیارے تلاش کرے۔
یاد رہے کہ اسٹیفن ہاکنگ اس سے قبل فروری میں بھی اسی طرح کا ایک بیان دے چکے ہیں۔
اس وقت بھی ان کا کہنا تھا کہ انسان کوبہرحال اپنی بقاکے لیے ایک نئی دنیا بسانی ہوگی کیونکہ سیارہ زمین اب زیادہ عرصے تک اس کی میزبانی نہیں کرسکے گی۔
اسٹیفن ہاکنگ نے کیمبرج یونیورسٹی میں قائم اپنے دفتر سے سڈنی کے اوپیرا ہاؤس کے اجتماع سے خطاب کیا۔

حضرت محمد ﷺ کے خاکے نہیں بناؤں گا


پیرس: فرانس کے مزاحیہ سیاسی رسالے چارلی ہیبڈو کے کارٹونسٹ نے حضرت محمد ﷺ کے خاکے نہ بنانے کا اعلان کیا ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق چارلی ہیبڈو کے کارٹونسٹ لوز نے ایک میگزین کو اپنے انٹرویو میں کہا کہ "اب مجھے اس میں دلچسپی نہیں رہی۔ میں اس سے تھک گیا ہوں، جس طرح میں سرکوزی کے خاکے بنا بنا کے تھک گیا تھا۔ میں اپنی پوری زندگی یہ خاکے بنانے میں صرف نہیں کرسکتا"۔
یاد رہے کہ چارلی ہیبڈو نامی رسالے نے 2011 میں پیغمبر اسلام حضرت محمد ﷺ کے توہین آمیز خاکے اپنے سرورق پر شائع کیے تھے جس کے بعد اس کے دفتر پر فائربموں کے ذریعے حملہ بھی کیا گیا تھا، بعد ازاں اس میگزین نے داعش کے خلیفہ ابوبکر البغدادی کے حوالے سے ٹوئٹ کی تھی۔
جس کے بعد رواں برس جنوری میں مسلح افراد نے چارلی ہیبڈو کے دفتر پر حملہ کرکے فائرنگ کردی تھی، جس کے نتیجے میں 12 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔
کارٹونسٹ لوز نے میگزین کو دیئے گئے انٹرویو میں کہا کہ "دہشت گردوں کی جیت نہیں ہوئی، ان کی جیت تب ہوتی جب پورا فرانس خوفزدہ ہوجاتا"۔
ایک مسمان کے لیے کسی بھی طرح حضرت محمد ﷺ کی عکاسی توہین رسالت کے زمرے میں آتی ہے، تاہم رسالے کے دفتر پر حملے کے بعد چارلی ہیبڈو نے اپنی اگلی اشاعت میں حضرت محمد ﷺ کے خاکے دوبارہ شائع کیے جس میں کردار کو “Je suis Charlie”(میں چارلی ہوں) کی تختی پکڑائی گئی جبکہ مزید لکھا تھا "سب کچھ معاف ہے"۔
آزادی اظہار رائے اور ہلاک شدگان سے یکجہتی کے لیے ادارے نے رسالے کی اربوں کاپیاں فروخت کیں جبکہ عموماً اس کی اشاعت 60 ہزار سے زائد نہیں ہوتی۔

پشاور میں دھماکا


پشاور: صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور کے علاقے حیات آباد میں نجی اسکول کے قریب دھماکا سنا گیا ہے۔
نمائندہ ڈان نیوز کے مطابق دھماکے کی نوعیت کا تعین کیا جارہا ہے ۔

یونس ٹیسٹ کرکٹ میں تاریخ رقم کرنے کے قریب



کھلنا: تجربہ کار پاکستانی بلے باز یونس خان پاکستان کی ٹیسٹ کرکٹ میں تاریخ رقم کرنے کے انتہائی قریب ہیں اور وہ پاکستان کے کامیاب ترین ٹیسٹ بلے باز کے اعزاز سے محض چند سو رنز کے فاصلے پر ہیں۔
یونس اب تک اپنے کیریئر میں 96 ٹیسٹ میچوں میں 28 سنچریوں اور 29 نصف سنچریوں کی مدد سے 53.37 کی شاندار اوسط سے آٹھ ہزار 327 رنز بنا چکے ہیں۔
وہ پاکستان کی ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے زیادہ 28 سنچریاں بننے والے بلے باز بھی ہیں۔
انہیں پاکستان کی ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ کا سب سے کامیاب بلے باز بننے کے لیے مزید 506 رنز درکار ہیں اور بنگلہ دیش کے خلاف ٹیسٹ میچوں کی سیریز میں وہ یہ کارنامہ سرانجام دے سکتے ہیں۔
پاکستان کی جانب سے ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے زیادہ رنز بنانے کا اعزاز عظیم بلے باز جاوید میانداد کو حاصل ہے جنہوں نے 124 ٹیسٹ میچوں میں آٹھ ہزار 832 رنز بنائے جبکہ انضمام الحق 120 ٹیسٹ میچوں میں آٹھ ہزار 829 رنز بنا کر اس فہرست میں دوسرے نمبر پر ہیں۔

موٹاپے سے بچانے والی بہترین غذائیں


ہم سب کو معلوم ہے کہ عمر میں اضافہ صرف بالوں کو ہی سفید نہیں کرتا بلکہ ہمارا جسم بھی موٹاپے کا شکار ہونے لگتا ہے تاہم اب ایک نئی طبی تحقیق میں ایسی غذاﺅں کا ذکر کیا گیا ہے جو لوگوں کو اس مشکل سے بچائے رکھتی ہیں۔
بوسٹس کی ٹیوفٹس یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق ایسے مرد و خواتین جو دہی، سی فوڈ، چربی سے پاک چکن اور نٹس وغیرہ کھانے کے شوقین ہوتے ہیں ان کا عمر میں اضافے کے ساتھ جسمانی وزن بڑھنے کی بجائے کم ہوتا ہے۔
تاہم جو افراد سرخ گوشت، پروسیس گوشت اور کاربوہائیڈریٹس والی اشیاءجیسے سفید روٹی، آلو اور میٹھی اشیاءزیادہ استعمال کرتے ہیں ان میں موٹاپے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔
تحقیق کے مطابق جو لوگ کاربوہائیڈیٹس اور سرخ گوشت کا استعمال کرتے ہیں ان میں موٹاپے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے تاہم گوشت میں سبزیوں کو شامل کرلینے سے جسمانی وزن زیادہ نہیں بڑھتا۔
خیال رہے کہ وزن بڑھنے کے ساتھ میٹابولزم کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے جس کے نتیجے میں جسمانی وزن بڑھنے لگتا ہے جبکہ کم متحرک رہنا بھی یہ خطرہ بڑھا دیتا ہے۔
محقق ڈاکٹر درویش مظفرین کے مطابق کھانے میں کیلیوریز کی مقدار پر نظر رکھنا جسمانی وزن میں اضافے کی روک تھام کے لیے سب سے زیادہ موثر حکمت عملی نہیں، درحقیقت کچھ غذائیں موٹاپے سے بچاتی ہیں جبکہ دیگر صورتحال بدتر کردیتی ہیں۔
ان کے بقول دلچسپ بات یہ ہے کہ پنیر، دودھ اور کم چکنائی والے دودھ کے استعمال سے جسمانی وزن میں اضافے یا کمی جیسے اثرات مرتب نہیں ہوتے۔

بیٹی کے فلموں میں کام کی خبر سے سچن پریشان


دہلی : ہندوستان کے عظیم سابق کرکٹر سچن ٹنڈولکر، جو اپنی زندگی پر بنائی جانے والی ڈاکیو فیچر فلم میں اداکاری کے جوہر دکھانے جارہے ہیں، اپنی بیٹی کے شوبز جوائن کرنے کی قیاس آرائیوں پر پریشان ہوگئے ہیں۔
اپنی اس پریشانی کا اظہار انھوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر کیا۔
سچن ٹنڈولکر نے لکھا:' میری بیٹی سارہ اپنی تعلیم حاصل کر رہی ہے اور وہ اُس کے فلموں میں کام کرنے سے متعلق قیاس آرائیوں پر پریشان ہیں'۔

لیموں کے 12 حیرت انگیز کمالات


لیموں گرمیوں میں اپنے عرق یا جوس کی بدولت پاکستان یا اس جیسے دیگر ممالک میں بہت زیادہ استعمال ہونے والا پھل ہے مگر کیا آپ کو معلوم ہے کہ کھانے یا پینے سے ہٹ کر بھی یہ کیا کرشمے دکھا سکتا ہے؟
درحقیقت یہ ترش پھل آپ کو صحت مند، خوبصورت، صفائی اور اچھا باورچی (یقیناً) بنا سکتا ہے۔
تو لیموں کے چند ایسے ہی حیرت انگیز فوائد جانے جو آپ کو دنگ کر کے رکھ دیں گے۔

فرنیچر پالش

اپنے گھر کے فرنیچر کے لیے گھریلو ساختہ پالش تیار کریں جس کی مہک اچھی اور لاگت کسی عام پالش کے مقابلے میں بہت کم ہے، بس لیموں سے عرق نکال کر اسے زیتون کے تیل میں شامل کریں ہلانے کے بعد اس محلول کو کپڑے پر ڈال کر اپنے فرنیچر کو پالش کریں، آپ کرسیوں اور میزوں کی چمک کو دیکھ کر حیران رہ جائیں گے۔

کھڑکی کی صفائی

چونکہ لیموں کے عرق میں تیزابیت ہوتی ہے اس لیے یہ اس گریس یا گندگی کو صاف کرنے کے لیے بہترین ذریعہ ثابت ہوتا ہے جو کھڑکی اور شیشوں پر جم جاتے ہیں۔ آپ لیموں کے عرق میں سرکہ اور پانی بھی ملا سکتے ہیں جس سے کھڑکی کی صفائی کے لیے زیادہ بہتر محلول تیار ہوجائے گا۔

پانی کے دھبوں کی صفائی

پانی کے نتیجے میں نلکوں اور شاور وغیرہ پر نظر نہ آنے والے دھبے پڑ جاتے ہیں اور بتدریج جم کر موٹے ہوتے چلے جاتے ہیں، جس کی صفائی کے لیے ایک لیموں کو کاٹ کر اسے اپنے نلکے یا شاور پر رگڑے، اس عمل کے بعد چمکنے لگیں گے اور بالکل نئے جیسے ہوجائیں گے۔

کٹنگ بورڈ کی صفائی

سبزیاں یا گوشت کاٹنے کے لیے استعمال ہونے والے گندے کٹنگ بورڈز کی صفائی کے لیے کچھ مقدار میں نمک کو لیں اور لیموں کو کاٹ لیں۔ نمک کو کٹنگ بورڈ پر چھڑک دیں اور پھر اس کے اوپر کٹے ہوئے لیموں کو رگڑے۔ کچھ دیر بعد نمک کو بورڈ سے ہٹا دیں یا پانی سے دھولیں۔ یہی چیز آپ بیلن اور سلاد کے لکڑی کے ڈونگوں کے ساتھ بھی کرسکتے ہیں۔

سنگ مرمر کی صفائی

سنگ مرمرکے فرش پر سے زنگ کے دھبوں کو ہٹانے کے لیے کھانے کا سوڈا داغ پر چھڑکیں اور اس پر کچھ لیموں کا عرق ڈال دیں، اس جگہ کو رگڑیں، ضرورت پڑنے پر پھر سوڈا اور لیموں کا عرق ڈالیں، اس کے بعد صاف گیلے کپڑے سے اس جگہ کو صاف کردیں، آپ کا فرش جگمگانے لگے گا۔

سلور کے برتنوں کی پالش

ایک چائے کے چمچ لیموں کے عرق کو ڈیڑھ کپ پانی اور آدھا کپ خشک دودھ میں مکس کریں اور اس محلول میں برتنوں کو رات بھر کے لیے چھوڑ دیں اور صبح دھو کر خشک کرلیں، تاہم اگر آپ کو جلدی ہو تو برتنوں کے داغ زدہ حصوں پر کچھ لیموں کا عرق ڈالیں اور ایک صاف کپڑے سے رگڑ کر صاف کرلیں۔

اپنے برتن دھونے والے صابن کو زیادہ موثر بنائیں

ایک چائے کا چمچ برتن دھونے والے صابن پر ڈال دیں جس کے نتیجے میں وہ برتنوں میں چکنائی سے جمع ہونے والی گریس کو بھی زیادہ موثر طریقے سے صاف کرنے لگے گا۔

پلاسٹک کے برتنوں کو جگمگائیں

اگر آپ کے پلاسٹک کے برتنوں پر آپ کے پسندیدہ کھانوں کا رنگ پختہ طریقے سے جم گیا ہو تو اس پر لیموں کا عرق ڈال کر کپڑے سے کچھ دیر رگڑیں اور پھر خشک کرنے کے لیے دھوپ میں رکھ دیں جس سے وہ رنگ اڑ جائے گا اور برتن اصل شکل میں لوٹ آئیں گے۔

ٹوائلٹ کی صفائی

لیموں کے عرق سے بھرا آدھا کپ ٹوائلٹ میں ڈال کر کچھ دیر انتظار کریں اور پھر برش سے صاف کرلیں جس سے وہ جگمگانے لگے گا جبکہ باتھ روم میں بھی اچھی مہک پھیل جائے گی، لیموں کے علاوہ آپ آدھا کپ سہاگا بھی شامل کرکے صفائی کے اس عمل کو زیادہ موثر بنا سکتے ہیں۔

ہر مقصد کے لیے کلینر کی تیاری

دو کپ گرم پانی میں ایک چمچ کھانے کے سوڈے ڈالیں اور اس وقت تک ہلائیں جب تک وہ مکمل طور پر حل نہ ہوجائے اس کے بعد آدھا کپ سفید سرکہ، ایک لیموں کا عرق اور پانچ سے دس قطرے لیمن آئل کو اس میں ملادیں اور پھر اسپرے بوتل میں ڈال لیں، ہر بار استعمال سے پہلے اسے نرمی سے ہلائیں۔ یہ ایک حیرت انگیز ایسا کلینر محلول ہوگا جو باورچی خانے یا باتھ روم ہر جگہ صفائی کا کام کرسکے گا۔

کپڑوں سے گریس کے داغ ہٹائیں

لیموں کے عرق کو سرکے میں ملائیں اور کپڑے پر گریس کے داغ پر اسے استعمال کریں، کچھ دیر تک اس لگا رہنے دیں اور پھر دھولیں، وہ داغ جادوئی انداز میں غائب ہوجائے گا۔

کپڑوں کو بلیچ کرنا

گرم پانی میں لیموں کا عرق شامل کریں اور اس میں اپنے سفید کپڑے بھگو دیں، کچھ دیر بعد انہیں معمول کی طرح نچوڑ کر دھولیں۔ اس کے علاوہ آپ واشنگ مشین میں بھی بلیچ کی جگہ آدھا کپ لیموں کا جوس ڈال کر بھی بہترین نتیجہ حاصل کرسکتے ہیں۔

گھر بیٹھے کی جانے والی 10 بہترین ملازمتیں


گزشتہ برسوں میں اقتصادی بحران کے نتیجے میں گھروں میں رہ کر کام کرنے والے افراد کی تعداد میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، اگرچہ پاکستان میں اس کا رجحان ابھی زیادہ نہیں تاہم یہاں بھی لوگوں کی جانب سے اس شعبے کا رخ کیا جارہا ہے۔
اگر آپ جاننا چاہیں کہ گھر میں فری لانس رہ کر آپ کے سب سے زیادہ بہتر کیا ہوسکتا ہے تو ای لانس او ڈیسک نامی ایک ویب سائٹ جو دنیا بھر سے اپنے کاموں کے لیے فرنس لانس افراد کو بھرتی کرتی ہے، نے دس شعبوں کی ایک فہرست بنائی ہے جس میں کامیابی کے امکانات بہت زیادہ ہوتے ہیں۔

وائس اوور

وائس اوور آرٹسٹ عام طور پر ویڈیوز اور اشتہارات وغیرہ کے لیے استعمال ہوتے ہیں، جس کے لیے انہیں کسی مرکزی اسٹوڈیو کا بھی رخ کرنا پڑتا ہے مگر اب یہ کام کے اندر ہوم اسٹوڈیو میں بھی کیا جاسکتا ہے اور ساﺅنڈ فائلیں ای میل یا انٹرنیٹ کے ذریعے ارسال کی جاسکتی ہیں۔

انفوگرافک ڈیزائن

پیچیدہ معلومات کو شیئرایبل طریقے سے پیش کرنے کی صلاحیت وائس اوور کے بعد فری لانس افراد کو بہت زیادہ کامیابی دلانے کا سبب بن سکتی ہے یعنی کسی بھی موضوع پر جامع گراف تیار کرنا انہیں راتوں رات کامیابی دلاسکتا ہے، صرف برطانیہ میں ہی اس کام کے لیے فی گھنٹہ 44 پاﺅنڈز دیئے جاتے ہیں۔

مالیاتی تحریریں

فنانشل معاملات پر جامع تجزیوں یا مارکیٹ کے اشاریوں پر لکھا جاتا ہے، یہ کام کرنے والے کمپنیوں کے لیے بلاگ بھی لکھ کر پوسٹ کرسکتے ہیں یہاں تک کہ ان کی سالانہ رپورٹس کا کام بھی ان کی آمدنی بڑھاتا ہے۔

کنٹریکٹ ڈرافٹنگ

کنٹریکٹ ڈرافٹنگ ایک ایسا کام ہے جس کے لیے بہت زیادہ معاوضہ دیا جاتا ہے کیونکہ کسی بھی کاروباری معاہدے کو قانونی طور پر موزوں بنانے کے لیے اس صلاحیت کی ضرورت ہوتی ہے۔

ریکروٹنگ

متعدد کمپنیوں نے اب نئے عملے کی بھرتی کا پیچیدہ ٹاسک فری لانس افراد کو منتقل کردیا ہے، جو لوگوں کو متوجہ، منتخب اور بھرتی کرنے کا تمام کام کرتے ہیں۔

مالیاتی پیشگوئی

کاروبار ایسے فری لانسرز کو بہت زیادہ بھرتی کرتی ہیں جو کمپنی کے مالیاتی ٹرن اوور کی پیشگوئی مقررہ وقت کے اندر کرسکے، اس کام کے لیے کسی کمپنی کے اندرونی اکاﺅنٹنگ اور سیلز ڈیٹا کا جائزہ لینا پڑتا ہے۔

الیکٹرونک انجنئیرنگ

الیکٹرونک پروگرامرز نئے سافٹ ویئرز اور آپ کے فونز، ٹیبلیٹس اور لیپ ٹاپس کے آپریٹنگ سسٹم کے لے آﺅٹ پروگرام کرسکتے ہیں۔

مترجم

ٹرانسلیشن یا کسی بھی ایک سے دوسری زبان کی تحریروں کے ترجمے کی صلاحیت کی اس وقت کاروباری کمپنیوں کے اندر مانگ میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔

سی وی رائٹنگ

دنیا بھر میں ملازمت کی تلاش لوگ کرتے ہی ہیں اور اس کے لیے اپنی اچھی سی وی کی تیاری لازمی ہوتی ہے اور فری لانسرز اس کام کے ذریعے اچھی آمدنی کماسکتے ہیں۔

پے پر کلک

یہ ایک انٹرنیٹ ایڈورٹائزنگ ماڈل ہے جسے ویب سائٹ کی براہ راست ٹریفک کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، فری لانسر ایڈورٹائزر بن کر پیسہ بناسکتے ہیں جس کے لیے انہیں مختلف ویب سائٹس کو پے پر کلک ٹریفک فراہم کرنا ہوگا۔

اوباما کی دادی عمرے کی ادائیگی کے لیے مکہ میں


جدّہ: امریکی صدر باراک اوباما کی دادی سارہ عمر نے حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے حوالے سے مکہ میں جاری ایک نمائش کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے اسلام کی معتدل تعلیمات کی عکاسی ہوگی، جو برداشت کا درس دیتا ہے اور تشدد کو مسترد کرتا ہے۔
عرب نیوز کی رپورٹ کے مطابق سارہ عمر، امریکی صدر کے چچا سعید اوباما، اور اپنے پوتے موسیٰ اوباما کے ساتھ عمرے کی ادائیگی کے لیے سعودی عرب آئی ہوئی ہیں۔
انہوں نے حرمین شریفین کو توسیع دینے کے لیے سعودی حکومت کی کوششوں کی تعریف کی۔
سارہ عمر اور ان کے خاندان کے افراد نے مکہ کے ڈسٹرکٹ نسیم میں جاری اس نمائش کا دورہ کیا اور وہاں دو گھنٹے گزارے۔
انہوں نے کہا ’’یہ نمائش دیکھ کر مجھے بہت خوشی ہوئی، سائنسی اور مستند دستاویز کی مدد سے یہ جدید طریقے سے اسلام کے فروغ کی ایک بہت اچھی مثال ہے۔‘‘
اوباما کی دادی نے یہ امید بھی ظاہر کی کہ اس نمائش کا انعقاد سعودی حکومت کی مدد سے دیگر ملکوں میں بھی کیا جائے گا، تاکہ اس آفاقی مذہب کے بارے میں غلط تصورات دور ہوسکیں۔

تحریک انصاف ٹویٹرٹرینڈزمیں سب سے آگے



 – این اے 246 میں ضمنی انتخاب کا دنگل سجا ہوا ہے جہاں ایم کیو ایم، جماعت اسلامی اورپاکستان تحریک انصاف ایک دوسرے کے مدِ مقابل ہیں۔
این اے 246 کا نتیجہ تو جب آئے گا تب آئے گا لیکن ایک معرکہ سوشل میڈیا پربھی برپا ہے جہاں پی ٹی آئی سب سے آگے ہے۔

این اے 246 میں پولنگ کا عمل جاری، ووٹرز مشکلات کا شکار


 جی ہاں سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’’ٹویٹر ‘‘پر تحریک انصاف کے حامیوں کی جانب سے تشکیل دیا جانے والا ٹرینڈ (رحجان) ’’بلے پہ ٹھپا‘‘سب سے اوپر ہے۔
ٹویٹر گریب
ٹویٹر گریب
دوسرا سیاسی ٹرینڈ ’’ووٹ دو ترازوکو‘‘ہے جو کہ ٹویٹرٹرینڈزمیں تیسرے نمبرپر ہے۔
ایم کیو ایم سے متعلق ٹرینڈ کچھ دیر قبل تک دوسرے نمبر پر تھا لیکن اب وہ ٹرینڈز کی فہرست سے غائب ہوگیا ہے جس کی وجہ شاید ایم کیو ایم کے کارکنوں کی فیلڈ میں موجودگی ہوسکتی ہےجبکہ پی ٹی آئی اور جماعت اسلامی کے کارکنان انتخابی حملے میں خال خال ہی نظر آرہے ہیں

رشی کپور کی مادھوری، ریکھا سے معافی


تقریباً 92 فلموں میں رومانوی ہیرو کا کردار ادا کرنے والے سینئر فنکار رشی کپور کے دل میں مادھوری ڈکشٹ اور ریکھا کے ساتھ کامیاب فلم نہ دینے کی خلش ہے۔
رشی اور مادھوری تین فلموں سائیبان (1993)، یارانہ (1995) اور پریم گرنتھ (1996) میں کام کر چکے ہیں لیکن بدقسمتی سے ان میں سے کوئی فلم باکس آفس پر راج نہ کر سکی۔
رشی نے ٹوئٹر پر ’دھک دھک گرل‘ کے ساتھ اپنی ایک پرانی تصویر شیئر کرتے ہوئے پرانے دنوں کو یاد کیا اور ان سے کامیاب فلم نہ دے پانے پر معافی مانگی۔
اسی طرح انہوں نے باکس آفس پر ہٹ فلم نہ دینے کی وجہ سے ریکھا کے ساتھ بھی اپنی ایک تصویر شیئر کی۔
دنوں سٹارز دیدارِ یار (1982)، رام تیرے کتنے نام (1985)، شیش ناگ (1990)، امیری غریبی (1990) اور آزاد دیش کے غلام (1990) میں کام کر چکے ہیں۔

دیوسائی: جہاں خاموشی گنگناتی ہے

ولیم ورڈزورتھ کی ایک نظم 'دی ڈیفوڈلز' کا آغاز یوں ہوتا ہے: "میں وادیوں اور کہساروں کی فضاؤں میں تیرتے بادل کی طرح آوارہ گردی کر رہا تھا۔ یکایک میں نے ایک جھیل کے کنارے درختوں کے نیچے سنہرے ڈیفوڈل پھول دیکھے، جو مخمور ہواؤں میں رقص کر رہے تھے۔"
یونہی بادل کی طرح برف زاروں، پہاڑوں، اور بستیوں میں آوارہ گردی کرتے دیوسائی کو جب پہلی بار دیکھا تو مجھے لگا جیسے ورڈزورتھ نے دیوسائی میں بیٹھ کر لکھا ہو۔ یقین نہیں تو جا کر دیکھ لیں۔ دیوسائی نیشنل پارک اور اس میں واقع شیوسر جھیل ورڈزورتھ کی نظم کا مجسم روپ ہیں۔
محض ایک صدی پہلے تک انسان ویرانوں کو خوف و دہشت کی علامت سمجھتا تھا۔ شیطان کا مسکن، ہولناک تنہائی، زمین کا ناسور، وحشت ناک مقام، جیسے ناموں سے پکارتا تھا۔ آبادی کی حد سلامتی کی سرحد سمجھی جاتی تھی۔ آج کا انسان آبادی سے رخ موڑ کر ویرانوں کی سمت جاتا ہے تاکہ قدرت کو قریب سے محسوس کر سکے، یا اپنی ذات کا عرفان حاصل کر سکے۔ انسان جوں جوں عقلی ارتقاء میں آگے بڑھتا گیا، اس کی روح توں توں بیقرار ہوتی گئی۔ علم و شعور کی دہلیز پر کھڑا آج کا انسان بھیڑ میں موجود زندگی کی ساری رعنائیوں اور سہولتوں کے ساتھ تنہا ہے۔ اگر ویرانے سکون بخشنے لگیں، اور وہاں جانا ہی ہو، تو دیوسائی سے بہتر ایسی کون سی جگہ ہو سکتی ہے؟
دیوسائی کے میدان — فوٹو سید مہدی بخاری
دیوسائی کے میدان — فوٹو سید مہدی بخاری
موسمِ گرما میں شیوسر جھیل — فوٹو سید مہدی بخاری
موسمِ گرما میں شیوسر جھیل — فوٹو سید مہدی بخاری
دیوسائی دو الفاظ کا مجموعہ ہے 'دیو' اور 'سائی' یعنی 'دیو کا سایہ۔' ایک ایسی جگہ، جس کے بارے میں صدیوں یہ یقین کیا جاتا رہا کہ یہاں دیو بستے ہیں۔ آج بھی مقامی لوگوں کا یہ ماننا ہے کہ یہ حسین میدان مافوق الفطرت مخلوق کا مسکن ہے۔ یہاں دیکھتے دیکھتے ہی موسم خراب ہونے لگتا ہے، کبھی گرمیوں میں اچانک شدید ژالہ باری ہونے لگتی ہے۔ ہر لمحہ بدلتے موسم کی وجہ سے دیوسائی میں دھوپ چھاؤں کا کھیل بھی جاری رہتا ہے۔ یہ علاقہ جنگلی حیات سے معمور ہونے کی وجہ سے انسان کے لیے ناقابل عبور رہا۔ برفانی اور یخ بستہ ہواﺅں، طوفانوں، اور خوفناک جنگلی جانوروں کی موجودگی میں یہاں زندگی گزارنے کا تصور تو اس ترقی یافتہ دور میں بھی ممکن نہیں۔ اسی لیے آج تک اس خطے میں کوئی بھی انسان آباد نہیں۔
کشمیر سے ہجرت کر کے دیوسائی آنے والے خانہ بدوشوں کی قدیم گزرگاہ یہی میدان ہے جو اپنے ساتھ بھیڑ بکریاں لے کر دیوسائی کی ہیبت میں چلتے جاتے ہیں۔ دیوسائی میں عمیق خاموشی اور صدیوں کی تنہائی خیمہ زن ہے۔ خاموشی ایسی کہ دل کانوں میں دھڑکتا محسوس ہوتا ہے تاوقتیکہ کہ کسی مارموٹ کی سیٹی فضا میں گونجنے لگے، اور تنہائی ایسی کہ کبھی کبھی اپنے وجود سے خوف آنے لگے۔
دیوسائی کے خانہ بدوش — فوٹو سید مہدی بخاری
دیوسائی کے خانہ بدوش — فوٹو سید مہدی بخاری
دیوسائی کے خانہ بدوش — فوٹو سید مہدی بخاری
دیوسائی کے خانہ بدوش — فوٹو سید مہدی بخاری
موسمِ گرما کی ایک دوپہر میں دیوسائی کی گھنی خاموشی میں کیمرے کا شٹر گرا تو دھماکا سا سنائی دیا۔ شور صدیوں سے ٹھہری ہوئی چپ فضا میں دور تک سرایت کرتا گیا۔ مارموٹوں کے کان کھڑے ہو گئے، لہلہاتی گھاس اور جنگلی پھول سہم کے اپنی جگہ رک گئے اور چشمِ تخّیل نے دیکھا کہ دور کہیں ماده ریچھ نے اپنے بچے کو آغوش میں بھر لیا۔ سورج بھی بدلی کی اوٹ میں جا چھپا تو میں شرمنده ہو کر گھاس پر بیٹھ گیا۔ کچھ دیر بعد سورج بدلی کی اوٹ سے یوں جھانکا جیسے دخل اندازی کرنے والے کا سراغ لگا رہا ہو۔ پھول پھر سے لہلہانے لگے، مارموٹ اپنے بِل چھوڑ کر گھاس میں کودنے لگے، ریچھ نے شتوں نالے میں قدم رکھا اور مچھلی کی بو لینے لگا۔ دیوسائی میں معمولات بحال ہونے لگے تو میں کیمرا سمیٹ کر چل دیا۔
ہمالیہ کے دامن میں واقع دیوسائی دنیا کا سب سے بلند اور اپنی نوعیت کا واحد پہاڑی میدان ہے جو اپنے کسی بھی مقام پر 4000 میٹر سے کم بلند نہیں۔ سال کے 8 ماہ یہ مقام برف سے ڈھکا رہتا ہے مگر حیرت کی بات یہ ہے کہ گرمیوں کے 4 مہینوں میں پہاڑی ڈھلوانوں اور گھاٹیوں پر مشتمل 3000 مربع کلومیٹر کے اس قدرے ہموار میدانوں کی زمین پر ہزار ہا رنگ کے شوخ جنگلی پھول تو جابجا کھلتے ہیں، مگر کہیں ایک بھی درخت نہیں ملتا۔
دیوسائی کی ایک چاندنی رات — فوٹو سید مہدی بخاری
دیوسائی کی ایک چاندنی رات — فوٹو سید مہدی بخاری
دیوسائی کے میدان — فوٹو سید مہدی بخاری
دیوسائی کے میدان — فوٹو سید مہدی بخاری
اس میدان میں جگہ جگہ بہتے نالے اور ان میں موجود سنہری ٹراؤٹ مچھلیاں، بیک ڈراپ میں 5000 میٹر بلند برف پوش پہاڑ، انہیں پہاڑوں میں مقیم جنگلی حیات، آسمان سے گزرتے بادلوں کے بڑے بڑے ٹکرے جو اتنی کم بلندی سے گزرتے معلوم ہوتے ہیں کہ لگنے لگتا ہے جیسے آپ پر سایہ کرنے کو قدرت نے چھتری بنا رکھی ہے، اور ان ٹکڑوں کے بیچ محوِ پرواز ہمالیائی گولڈن ایگلز، فضا میں پھیلی ایک انجان مہک جو شاید بھورے ریچھوں، سرخ لومڑیوں، سفید چیتوں اور شرارتی مارموٹوں کے جسموں سے نکل کر دیوسائی کی نم زدہ گھاس اور تازہ جنگلی پھولوں سے مل کر ساری فضا کو معطر کیے رکھتی ہے، ہی دیوسائی کا حسن ہے۔ اس خطہ زمین پر جنابِ میر تقی میر کا یہ شعر بالکل صادق آتا ہے:
لے سانس بھی آہستہ کہ نازک ہے بہت کام
آفاق کی اس کارگہ شیشہ گری کا
اسکردو کے بازار سے گزر کر ایک سڑک سدپارہ گاؤں کی طرف مڑ جاتی ہے۔ اس بل کھاتی سڑک پر سدپارہ کی نیلگوں جھیل یوں نظر آتی ہے کہ مسافر پلک جھپکنا بھول جاتے ہیں۔ جھیل کو دیکھتے دیکھتے آگے سدپارہ کا گاؤں آ جاتا ہے جہاں بچوں نے قدرت سے سازباز کر کے سڑک کو بند کرنے کا کھیل رچا رکھا ہے۔ گرمیوں میں جائیں تو گاؤں سے پہلے سڑک کے اوپر سے بہتے چشمے نے ایک طرف سے سڑک کو توڑ پھوڑ دیا ہے تو وہیں دوسری طرف مقامی بچے گاڑیاں روک کر مسافروں کو چیری بیچتے ملتے ہیں۔ ایک ننھی بچی سے خوش ہو کر چیری خریدی تو مسکراہٹ سے اس کے چہرے پر چیری کا رنگ جھلکنے لگا۔
سدپارہ گاؤں — فوٹو سید مہدی بخاری
سدپارہ گاؤں — فوٹو سید مہدی بخاری
بڑا پانی — فوٹو سید مہدی بخاری
بڑا پانی — فوٹو سید مہدی بخاری
گاؤں سے گزر کر سڑک غیر ہموار ہونے لگتی ہے۔ مسلسل چڑھائی کانوں پر دباؤ ڈالنے لگتی ہے۔ ایک طرف نہایت اونچے پہاڑ، اور دوسری طرف گہری کھائیوں کی موجودگی دل کی دھڑکن کو بے ترتیب کرنے کے لیے کافی ہے۔ نہ دل سنبھلتا ہے، نہ ہی سڑک۔ بل کھاتے، چکراتے، چڑھائی چڑھتے بالآخر آنکھوں کے سامنے ایسا منظر کھلتا ہے جس کی وسعت دو آنکھوں کے پردے پر سمونا ممکن نہیں۔
تنگ درے کے سفر کے بعد بلندی پر دیوسائی ہتھیلی کی طرح پھیلا ہوا ملتا ہے۔ بڑے پانی کے پل کو عبور کریں، تو شیوسر جھیل تک ایک پتھریلی سڑک کھلے میدان کی وسعت میں چلتی جاتی ہے۔ شیوسر جھیل کا مقامی زبان میں مطلب 'اندھی جھیل' ہے۔ یہ جھیل دنیا کی بلند ترین جھیلوں میں سے ہے۔ اس کے گہرے نیلے پانی اپنے پس منظر میں برف پوش پہاڑیوں اور پیش منظر میں سرسبز گھاس اور رنگ برنگے جنگلی پھولوں کے ساتھ موسمِ گرما میں ایسا نظارہ پیش کرتے ہیں کہ آنکھ حیرت زدہ پھٹی کی پھٹی رہ جاتی ہے۔
شیوسر جھیل — فوٹو سید مہدی بخاری
شیوسر جھیل — فوٹو سید مہدی بخاری
شیوسر جھیل — فوٹو سید مہدی بخاری
شیوسر جھیل — فوٹو سید مہدی بخاری
شیوسر جھیل — فوٹو سید مہدی بخاری
شیوسر جھیل — فوٹو سید مہدی بخاری
شیوسر جھیل — فوٹو سید مہدی بخاری
شیوسر جھیل — فوٹو سید مہدی بخاری
موسم صاف ہو تو جھیل کے عقب میں قاتل پہاڑ نانگاپربت کی برف پوش چوٹی نظر آتی ہے اور جھیل اگر پرسکون ہو تو نانگاپربت کا عکس پانیوں میں یوں گھلتا دِکھتا ہے جیسے کسی نے نِیل میں سفیدی گھول دی ہو۔ گرد و نواح کی کسی پہاڑی پر چڑھ کر دیکھیں تو شیوسر جھیل کے نیلاہٹ پوری آب و تاب کے ساتھ انسانی دل نما شکل میں نظر آتی ہے۔ یہ جھیل دیوسائی کا دل ہے۔
شیوسر جھیل کے عقب میں نانگاپربت — فوٹو سید مہدی بخاری
شیوسر جھیل کے عقب میں نانگاپربت — فوٹو سید مہدی بخاری
جیپ روڈ — فوٹو سید مہدی بخاری
جیپ روڈ — فوٹو سید مہدی بخاری
یوں تو دیوسائی سے عشق ہونے کے سبب اپنی سفری زندگی میں کئی بار محبوب کے وصال کو گیا۔ کبھی تو محبوب نے بانہیں کھول کر میرا استقبال کیا اور کبھی دیوسائی برف کی سفید چادر اوڑھ کے الگ تھلگ بیٹھا رہا اور اذنِ دیدار نہیں ملا۔ بہت کم لوگوں نے شاید سردیوں میں اس میدان کو پار کرنے کا جوکھم اٹھایا ہو۔ میں دیوسائی کو نومبر میں دیکھنا چاہتا تھا جب سیاحوں سے پاک یہ میدان بالکل قدرتی حالت میں تنہا ہو۔
مجھے اس دن سدپاره کی چوکی سے ہی موسم دیکھ کر واپس اسکردو پلٹ جانا چاہیے تھا۔ فوجی گاڑیاں آدھے راستے سے واپس پلٹ رہی تھیں اور گزرتے ہوئے انہوں نے اشارہ کیا کہ آگے برف باری اور خراب موسم ہے واپس ہو جاؤ، مگر میرے اندر دیوسائی جانے کی خواہش شدید تھی۔ میری چھٹی حِس کہہ رہی تھی کہ دیوسائی جاؤ۔ اس غلطی کی سزا یہ تھی کہ دیوسائی میں مسلسل گرتی برف سے ایک تو جیپ ٹریک چھپ گیا تھا اور راستہ نظر نہیں آتا تھا، دوسرا سارا دن جیپ کے پہیوں کو چَین لگا کر ساتھ دھکا بھی لگانا پڑتا۔ جیپ برف میں دھنستی تھی اور برف کئی جگہوں سے آئینے جیسی بن چکی تھی جس پر پاؤں پھسلتا تھا۔
— فوٹو سید مہدی بخاری
— فوٹو سید مہدی بخاری
— فوٹو سید مہدی بخاری
— فوٹو سید مہدی بخاری
وہ سارا دن برفباری میں دھکا لگاتے، برف کھودتے، منظر و موسم کو دیکھتے، اور خدا کو یاد کرتے گزرا۔ تھکاوٹ تو جو ہوئی سو ہوئی، پر قدرت نے ہماری محنت کا جو انعام دیا وه لاجواب تھا۔ قدرت آپ کی محنت کا انعام آپ کے حوالے کرنے سے پہلے اپنی پوری قیمت وصول کرتی ہے۔ تنہائی کے عالم میں کئی منظر ایسے ہوتے ہیں کہ لگتا ہے خدا ہمیں ہی دکھا رہا ہے۔ بس یہی سوچ کر اسی لمحے ایک سجدہ بے اختیار کرنے کو جی کر اٹھتا ہے۔ دیوسائی کی ہیبت ناک تنہائی اور خراب موسم میں جب بادلوں میں بالکل قطبِ شمالی کی آسمانی روشنیوں کی طرح رنگ چمکنے لگیں تو آپ سجدہ نہیں کریں گے کیا؟
شیوسر جھیل سے ذرا پہلے براؤن ماده ریچھ اور اس کا چھوٹا بچہ ہمیں نظر آئے۔ برفباری میں حدِ نظر اچھی نہیں تھی، پر میرے لیے یہ میرے سفری لمحوں میں سب سے خوشگوار لمحہ تھا۔ ویسے بھی میرے پاس دو سو ملی میٹر سے زیادہ فوکل لینتھ کا لینس نہیں تھا۔ دوربین لگائے میں ریچھ ماں اور بچے کی حرکتیں دیکھتا رہا۔ تین ہمالیائی سرخ لومڑیاں بھی نظر آئیں جو سکون سے میری جیپ کے آگے سے گزر گئیں۔
— فوٹو سید مہدی بخاری
— فوٹو سید مہدی بخاری
— فوٹو سید مہدی بخاری
— فوٹو سید مہدی بخاری
شیوسر جھیل پر جانے تک برفباری انتہائی شدید ہو چکی تھی۔ جھیل پر برف گرتی تھی اور اس سفیدی میں حدِ نظر 20 میٹر سے زیاده نہیں تھی۔ میں جیپ میں بیٹھا قدرت کو اصل حالت میں محسوس کر سکتا تھا اور کہیں آس پاس ریچھوں کی بو پھیلی تھی، لومڑیوں کا خاندان تھا، اور مارموٹ بلوں میں دبکے بیٹھے تھے۔ دیوسائی نے سفید چادر اوڑھنا شروع کر دی تھی۔ وہاں میرے، ڈرائیور، اور قدرت کے سوا کوئی نہ تھا۔
نیلی جھیل پر سفید روئی جیسے گولے برس رہے تھے۔ شدید سردی میں مشقت بھرا دن گزارنے کے بعد دیوسائی کو پار کر کے چِلم چوکی تک پہنچتے پہنچتے شام پھیل رہی تھی۔ چِلم کی فوجی چوکی میں اندراج کروا کے استور روڈ پر نکلا تو کچھ فاصلے پر ایک چھوٹی سی لڑکی اپنی دو بھیڑوں کے ساتھ اچھلتی کودتی چلی جا رہی تھی۔ جیپ کی آواز سن کر بھیڑوں نے سڑک کنارے پناہ لی۔ بچی نے پیچھے مڑ کر مسکرا کے دیکھا تو دل پر جمی ساری برف پگھل گئی، ساری تھکاوٹ اتر گئی۔ گاڑی میں بیٹھے ڈرائیور اور میں بھی مسکرا دیے تھے۔
چلم گاؤں کے پاس — فوٹو سید مہدی بخاری
چلم گاؤں کے پاس — فوٹو سید مہدی بخاری
چلم گاؤں — فوٹو سید مہدی بخاری
چلم گاؤں — فوٹو سید مہدی بخاری
چلم کی شام — فوٹو سید مہدی بخاری
چلم کی شام — فوٹو سید مہدی بخاری
چلم کی شام — فوٹو سید مہدی بخاری
چلم کی شام — فوٹو سید مہدی بخاری
کبھی کبھی سفر کی دشواریاں اور تکلیفیں اتنی زیادہ ہوجاتی ہیں، کہ مسافر کو خود پر ملامت ہونے لگتی ہے۔ لیکن یہی سفر ایسے ایسے رنگ ذہن کے پردے پر منقش کرتا ہے جن کا عکس تا حیات جھلکتا رہتا ہے، اور گوشہ تنہائی میں کبھی کبھی آسیب کی صورت اردگرد منڈلانے لگتا ہے۔
دیوسائی میں مشقت بھرا دن گزارنے کے بعد چلم سے استور کے راستے میں تھکی ہاری شام پہاڑوں پر اتر رہی تھی۔ سڑک سے کچھ فاصلے پر ایک شخص دِکھا جو ایک قبر پر جس کے اطراف لکڑی کے تختوں سے حد بندی کی گئی تھی، اس لکڑی کے چوپٹے کے اندر بیٹھا تھا اور کچھ دیر پہلے ہی اس نے آنسو پونچھے تھے۔ قبر پر پاکستان کا جھنڈا لہرا رہا تھا۔
چلتے چلتے اس کے پاس پہنچ کر سلام کیا تو بولا "نیچے سے آئے ہو؟" (شمالی علاقہ جات کے لوگ میدانی علاقوں سے آنے والوں کو ایسا ہی کہتے ہیں)۔ میں نے ہاں میں جواب دیا، اور حال احوال پوچھ کر اور اِدھر ادھر کی ایک دو باتیں کر کے جب میں نے پوچھا کہ کس کی قبر ہے تو بولا "یہ میرے بیٹے کی قبر ہے۔ فوج سے ریٹائر ہو کر مزدوری کرتا ہوں، پنشن کے تھوڑے پیسوں سے اور مزدوری کر کے جو کچھ بھی کماتا تھا اس پر لگا دیتا تھا۔ یہ اکلوتا بیٹا تھا صاحب، پنڈی میں کالج میں پڑھتا تھا۔ پنڈی سے استور آتے ہوئے راستے میں ظالموں نے بس سے اتار کے باقی مسافروں سمیت مار دیا۔ اس کا قصور باقی مرنے والوں کی طرح اس کا مسلک ہی تھا۔"
بات ختم کرنے سے پہلے اس کی آواز اس کا ساتھ چھوڑ گئی تھی، اور آنکھیں بھر آئیں تھیں۔ مجھے بھی سمجھ نہیں آتی تھی کہ جواب میں کیا کہوں ماحول میں خاموشی طاری ہو گئی تھی۔
کچھ وقفے کے بعد بولا کہ کام پر جاتے اور آتے ہوئے یہ گھر کے راستے میں آتی ہے، اس لیے کچھ دیر دعا پڑھنے کے لیے بیٹھ جاتا ہوں۔ رخصت ہوتے میری نظر پاکستان کے جھنڈے پر پڑی تو مجھے لگا جیسے چاند تارے میں خون اتر آیا ہو، یا شاید ڈھلتی شام میں آسمان پر سرخ پڑتے بادلوں کا عکس اس میں جھلک رہا تھا۔
پاکستان کے شمال کو دیکھ کر دل اگر شاد ہوتا ہے تو وہیں مقامی لوگوں کے دکھ درد پر ملول بھی ہونا چاہیے۔ روڈ پر اپنی جیپ تک پہنچتے پہنچتے آنکھیں ڈبڈبا گئی تھیں۔ منظر دھندلے ہو گئے تھے، سورج پہاڑوں کی اوٹ میں جا چھپا تھا، اور رومال بھی کہیں گم ہو گیا تھا۔
دیوسائی  — فوٹو سید مہدی بخاری
دیوسائی — فوٹو سید مہدی بخاری
شیوسر جھیل — فوٹو سید مہدی بخاری
شیوسر جھیل — فوٹو سید مہدی بخاری
— فوٹو سید مہدی بخاری
— فوٹو سید مہدی بخاری
لکھاری اندھی جھیل کے کنارے — فوٹو سید مہدی بخاری
لکھاری اندھی جھیل کے کنارے — فوٹو سید مہدی بخاری
جیپ چلی تو آنکھوں کی نمی خنک ہوا نے جذب کر لی، اور دل سردی کی لہر سے سرد پڑنے لگا۔ میرے ڈرائیور نے ٹیپ ریکارڈر آن کر دیا۔ غزل کی آواز شام کے دھندلکے میں وادی کی خاموشی کو چیرنے لگی۔ آنکھوں کی نمی جو کچھ دیر پہلے خنک ہوا نے جذب کر لی تھی، پھر آنکھوں میں بھر گئی۔ سڑک کے دونوں جانب کھڑے چیڑ کے درخت دھندلے پڑنے لگے۔ ان کے پتوں سے قطرے ٹپک رہے تھے۔ باہر شدید سردی تھی اور گاڑی کے اندر سانسیں تپ دق کے مریض جیسی تیز اور گرم تھیں۔ ٹیپ ریکارڈر پر غزل گونج رہی تھی
سینے میں جلن آنکھوں میں طوفان سا کیوں ہے
اِس شہر میں ہر شخص پریشان سا کیوں ہے
دِل ہے تو دھَڑکنے کا بہانہ کوئی ڈھونڈے
پتھر کی طرح بے حِس و بے جان سا کیوں ہے