Google_plus Pinterest Vimeo RSS
Showing posts with label Pakistan. Show all posts

پاکستان کو بنگلہ دیش کے ہاتھوں شرمناک وائٹ واش


بنگلہ دیش نے پاکستان کو تیسرے ایک روزہ میچ میں آٹھ وکٹوں سے شکست دے کر وائٹ واش مکمل کرلیا۔
250 رنز کا تعاقب بنگلہ دیشی ٹیم نے 40ویں اوور میں پورا کرلیا۔ بنگلہ دیش کی جانب سے سومیا سرکار نے 127 رنز کی شاندار اننگز کھیلی۔
اس کے علاوہ تمیم اقبال نے 64 جبکہ مشفق الرحیم نے 49 رنز کی اننگز کھیلی اور ٹیم کو فتح سے ہمکنار کروایا۔
میچ میں کوئی بھی پاکستانی باؤلر متاثر کن کارکردگی نہیں دکھا سکا۔ جنید خان نے دو وکٹیں حاصل کیں۔
شکست کے ساتھ پاکستانی ٹیم تاریخ کی بدترین ایک روزہ رینکنگ یعنی آٹھویں پوزیشن پر آگئی۔
بنگلہ دیش سے تاریخی شکست کے بعد پاکستانی کپتان اظہر علی کا کہنا تھا کہ بنگلہ دیش نے بہترین کرکٹ کھیلی اور میں انہیں مبارک باد پیش کرتا ہوں۔
انہوں نے کہا ہم نے بھی کچھ حصوں میں اچھے کھیل کا مظاہرہ کیا تاہم مجموعی طور پر اچھی کارکردگی نہ دکھا سکے۔
انہوں نے کہا کہ ہماری ٹیم میں تجربہ کار کھلاڑیوں کی کمی تھی۔
اظہر علی نے کہا کہ ٹی ٹوئنٹی اور ون ڈے سیریز میں تجربہ کار کھلاڑی موجود ہوں گے جس کے باعث بہتر کارکردگی دکھائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ کھلاڑیوں کو ذمہ داری کا احساس کرنا ہوگا، ذاتی پرفارمنس کی اہمیت نہیں، شکست پر افسوس ہوا۔
پاکستانی کپتان کا کہنا تھا کہ کوچنگ اسٹاف صرف بتا سکتاہے، کھیلنا کھلاڑیوں کا کام ہے۔
بنگلہ دیش کی ٹیم کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ وہ پہلے سے بہت بہتر ہوگئے ہیں اور انہوں نے شاندار کھیل پیش کیا۔
انہوں نے واضح کیا سعید اجمل اور سرفراز احمد کو ڈراپ نہیں کیا گیا تھا، انہوں آرام کا موقع دیا گیا۔
اظہر علی نے کہا کہ سرفراز احمد نے خود کہا کہ اگر کسی کو موقع دینا ہے تو ایسا کرلیں۔
اس سے قبل پاکستانی ٹیم نےمیزبان بنگلہ دیش کو جیتنے کے لیے 251 رنز کا ہدف دیا تھا۔
پاکستانی کپتان اظہر علی نے ٹاس جیت کر بیٹنگ فیصلہ کیا ۔
ایک موقع پر پاکستان کا اسکور 39 ویں اوور میں دو وکٹوں کے نقصان پر 203 رنز تھے تاہم کپتان اظہر علی کے آؤٹ ہونے کے بعد کوئی بھی بلے باز کریز پر نہ ٹک سکا اور پوری ٹیم 250 رنز آؤٹ ہو گئی۔
پاکستان کی جانب سے پہلی وکٹ 91 رنز پر اس وقت گری جب نوجوان اوپنر سمی اسلم 45 رنز بنا کر وکٹوں کے پیچھے آؤٹ ہو گئے۔
سمی کے آؤٹ ہونے کے بعد محمد حفیظ بیٹنگ کے لیے آئے لیکن وہ بھی صرف چار رنز بنا کر عرفات سنی کی گیند پر بولڈ ہو گئے۔
حفیظ کی وکٹ گرنے کے بعد کپتان اظہرعلی اور حارث سہیل نے بھی محتاط انداز میں بیٹنگ کی مگر 203 رنز کے مجموعے پر اظہر علی بھی 101 رنز بنا کر پویلین لوٹ گئے جب کہ اس کے اگلے ہی اوور میں حارث سہیل بھی 53 رنز بنا کر کیچ آؤٹ ہو گئے۔
پاکستان کی آخری آٹھ وکٹیں مجموعی اسکور میں صرف 47 رنز کا اضافہ کر سکیں اور پوری ٹیم 49 اوورز میں 250 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئی۔
پاکستان کی جانب سے ٹیم میں تین تبدیلیاں کی گئیں اور نائب کپتان سرفراز احمد، سعید اجمل اور راحت علی کو ڈراپ کرکے عمر گل، ذوالفقار بابر اور سمی اسلم کو شامل کیا گیا ہے۔
دوسری جانب سیریز میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والی بنگلہ دیشی ٹیم میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی تھی۔
شاندار سنچری اسکور کرنے پر سومیا سرکار کو میچ جبکہ تمیم اقبال کو سیریز کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔
پاکستانی ٹیم کو 13ویں مرتبہ وائٹ واش کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
دونوں ٹیموں کے درمیان ٹی ٹوئنٹی میچ جمعے کو کھیلا جائے گا جبکہ ٹیسٹ سیریز کا آغاز 28 اپریل سے ہوگا۔

یمن تنازع: اپوزیشن کا حکومت کو ثالث بننے کا مشورہ


پاکستان کی بڑی اپوزیشن جماعتوں نے حکومت کو یمن کے مسئلے پر واضح پالیسی اپنانے اور ثالث کا کردار ادا کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
پیر کو یمن کے مسئلے پر بلائے گئے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے دوران حکومت اور بعض اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے یمن کے مسئلے پر بات چیت کے بجائے تحریک انصاف کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا جب کہ وزیراعظم کی وقفے سے قبل ایوان میں غیرموجودگی بھی زیربحث آئی۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اعتزاز اس موقع پر بعض اراکین کی جانب سے تحریک انصاف کو ہدف بنائے جانے پر تنقید کی اور کہا کہ پی ٹی آئی کے اراکین کو حکومت لے کر آئی ہے۔
ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے اعتزاز احسن نے حکومت کو مشورہ دیا کہ وہ اس مسئلے پر گول مول باتیں کرنے کے بجائے واضح بات کرے اور ایوان کو اعتماد میں لے۔
اعتزاز احسن نے کہا کہ حکومت واضح طور پر نہیں بتا رہی کہ سعودی عرب نے کس قسم کی مدد مانگی ہے اور حکومت نے کیا فیصلہ کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت اس مسئلے پر اپنی ترجیحات کو واضح کرے۔ آج پارلیمنٹ یہاں حکومت کو مینڈیٹ دینے کے لیے بیٹھی ہے لیکن حکومت یمن کے مسئلے پر گول مول باتیں کر رہی ہے۔
اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ یمن کا مسئلہ شیعہ سنی جنگ نہیں بلکہ بادشاہت کا تنازع ہے۔
جمعیت علماء اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان اور پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی نے بھی اعتزاز احسن کی رائے اتفاق کیا اور حکومت کو بطور ثالث اپنا کردار کرنے کا مشورہ دیا۔
مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ یمن میں شیعہ سنی مسئلہ نہیں بلکہ بادشاہت اور جمہوریت کی لڑائی ہے۔
شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ حکومت اس بحران سے نکلنے میں سعودی عرب کی مدد کرے ۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ پاکستان او آئی سی کا اہم رکن ہے، کیا ہم نے اس فورم کو استعمال کرنے کی کوشش کی۔
تحریک انصاف کی شرکت پر علامتی واک آؤٹ کے بعد فاروق ستار ایوان میں واپس آئے اور اظہار خیال کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی مشرقی اور شمال مغربی سرحدیں پہلے ہی غیرمستحکم ہیں اور یمن کے مسئلے پر ایران کے ساتھ سرحد بھی غیرمستحکم ہو جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کو یمن کے مسئلے پر سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ وقتی فوائد کے بجائے دورس فوائد کو مدنظر رکھنا چاہیے۔
فاروق ستار نے کہا کہ سعودی عرب نے ہر مشکل وقت بالخصوص قدرتی آفات کے موقع پر پاکستان کی بھرپور مدد کی اور کبھی ایسا مشکل وقت آیا کہ تو پاکستان بھی سعودی عرب کے ساتھ ایسے ہی کھڑا رہے گا۔
اس سے قبل صبح کے سیشن میں وزیردفاع خواجہ آصف نے سعودی عرب کی جانب سے مانگی کی مدد کی تفصیلات سے بھی ایوان کو آگاہ کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ سعودی سلامتی کے حوالے سے حکومت کی پالیسی میں کوئی ابہام نہیں اور سعودی عرب کی سلامتی کو لاحق خطرات کا بھرپور دفاع کیا جائے گا۔
تاہم اس موقع پر انہوں نے ایوان کو یاد دلایا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ تنہا لڑی ہے اور اس کی مدد کو کوئی ملک نہیں آیا۔
بعد ازاں اسپیکر نے یہ اجلاس کل صبح 11 بجے تک ملتوی کر دیا۔

اسکردو قراقرم کے فلک شگاف پہاڑ



سید مہدی بخاری

پاکستان کے انتہائی شمال کی دیومالائی سرزمین گلگت بلتستان کا صدر مقام اسکردو قراقرم کے فلک شگاف پہاڑوں میں گھری ہوئی وسیع و عریض وادی ہے۔ لداخ کے تنگ دروں اور پہاڑوں سے جھاگ اڑاتا شوریدہ دریائے سندھ اسکردو پہنچ کر اپنے ریتیلے کناروں کے درمیان یوں پرسکون معلوم ہوتا ہے جیسے تھکاوٹ کے بعد ریت پر پھیلا دھوپ سینک رہا ہو، اور یہیں سے دنیا کے بلند ترین پہاڑوں کےٹو، براڈ پِیک، اور گشابروم کو راستے نکلتے ہیں کہ جن پر چلنے والے راہِ جنون کے مسافر مِیل کا پتھر نگاہ میں نہیں رکھتے۔ دنیا بھر سے سیاح ان پہاڑوں کو دیکھنے اور سر کرنے کی چاہ میں مقناطیسی کشش کی طرح کھنچے چلے آتے ہیں اور کئی انہی برفانی تودوں، پہاڑوں سے نبرد آزمائی کرتے زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں۔ اسکردو میں موت بھی خوبصورت ہے۔
یہ اسکردو ہے: خشک ، پتھریلا، بنجر، ریتیلا، اور دیکھنے میں وحشت بھرا۔
قراقرم ہائی وے کو جگلوٹ کے مقام سے تھوڑا آگے چھوڑتی ہوئی ایک تنگ بھربھری اور خشک پہاڑوں کے درمیاں بل کھاتی سڑک اسکردو کی طرف مڑ جاتی ہے۔ سات گھنٹے کی اس مسافت میں کئی بستیاں، پہاڑی نالے اور خوش اخلاق لوگ مسافر کا استقبال کرتے ہیں۔ دریائے سندھ پر بنا لکڑی کا قدیم پل عبور کرتے ہی ایک سڑک سیاحوں کی جنت شنگریلا کی راہ لیتی ہے جہاں شنگریلا ریزورٹس کے چیئرمین عارف اسلم صاحب نے برف پوش پہاڑوں کے بیچ ایک دلکش دنیا سجا رکھی ہے۔
شنگریلا ریزورٹس — فوٹو سید مہدی بخاری
شنگریلا ریزورٹس — فوٹو سید مہدی بخاری
شنگریلا ریزورٹس — فوٹو سید مہدی بخاری
شنگریلا ریزورٹس — فوٹو سید مہدی بخاری
شنگریلا ریزورٹس — فوٹو سید مہدی بخاری
شنگریلا ریزورٹس — فوٹو سید مہدی بخاری
شنگریلا ریزورٹس — فوٹو سید مہدی بخاری
شنگریلا ریزورٹس — فوٹو سید مہدی بخاری
اس سے اوپر کچورا گاؤں واقع ہے، جہاں درختوں کے بیچ گھِری کچورا جھیل کا نیلگوں پانی ٹھہرا ہے۔ پہاڑوں کے پیچھے دیر سے ابھرنے والے سورج کی پہلی پہلی روپہلی کرنیں یوں آہستہ آہستہ جھیل میں اُترتی ہیں جیسے کوئی بہت مقدس پانی میں پہلے آہستہ سے اپنے پیر کی انگلیاں ڈبوئے، پھر تلوے، اور آخر میں ایڑھیاں۔ زندگی میں پہلی بار کرنوں کو پانی میں اترتا وہیں دیکھا تھا۔
وادی میں بہتے دریائے سندھ کی بھی اپنی ہی طبیعت اور رنگ ہیں۔ چپ چاپ، نیلگوں، اور روپہلا، سردیوں میں اپنے کناروں پر سبز رنگ جھلکاتا ہوا اور گرمیوں میں سلیٹی، جیسے پرانی چاندی ہو۔ تبت والے کہتے ہیں کہ یہ دریا شیر کے منہ سے نکلتا ہے، اس لیے اسے شیردریا کہتے ہیں۔ بھلا ہو اس شیر کا جس نے اپنے قبیلے کی روایات کے خلاف نعمت نِگلی نہیں اُگلی ہے۔
کچورا جھیل — فوٹو سید مہدی بخاری
کچورا جھیل — فوٹو سید مہدی بخاری
کچورا جھیل — فوٹو سید مہدی بخاری
کچورا جھیل — فوٹو سید مہدی بخاری
کچورا جھیل — فوٹو سید مہدی بخاری
کچورا جھیل — فوٹو سید مہدی بخاری
کچورا جھیل — فوٹو سید مہدی بخاری
کچورا جھیل — فوٹو سید مہدی بخاری
دریائے سندھ پر طلوعِ آفتاب — فوٹو سید مہدی بخاری
دریائے سندھ پر طلوعِ آفتاب — فوٹو سید مہدی بخاری
دریائے سندھ پر اترتی شام کا منظر — فوٹو سید مہدی بخاری
دریائے سندھ پر اترتی شام کا منظر — فوٹو سید مہدی بخاری
دریا کے کناروں پر دور تک پھیلی ہوئی ریت جن پر نہ کسی کے پیروں کے نشاں نہ زمین سے اُگتا کوئی سرکنڈا۔ نہ جانے کیوں ایسی شفاف ریت دیکھ کر دل چاہنے لگتا ہے کہ اس پر نشان بناتا دور تک چلوں، وہاں تک جہاں ایک کھنڈر نما قلعے کے آثار آٹھ سو سال سے نیچے وادی کا نظارہ کر رہے ہیں۔ کھرپوچو قلعہ بلتی حکمران علی شیر خان انچن نے تعمیر کروایا تھا۔ کبھی ناقابلِ شکست سمجھا جانے والا یہ قلعہ اب وقت کے آگے ہار مان چکا ہے۔ در و دیوار بوسیدہ ہو کر ڈھ رہے ہیں۔ ہر عروج کو زوال ہے مگر کھرپوچو کا زوال بھی خوبصورت ہے۔ پورے چاند کی رات میں اس کھنڈر کی دیواروں پر پھیلی چاندنی کے ساتھ نیچے وادی کا دودھیا نظارہ مجھے آج بھی راتوں کو بے چین کر دیتا ہے۔
کٹپانا کے گاؤں میں پھیلے ریت کے پہاڑ جنہیں کولڈ ڈیزرٹ بھی کہا جاتا ہے، اپنے وجود میں ایک عجوبہ صحرا ہیں۔ اس کے ٹیلے وادی میں بہتی تیز ہواؤں کی وجہ سے اپنا مقام اس تیزی سے بدلتے ہیں جیسے خانہ بدوش اپنا ٹھکانہ۔ اس بلندی اور اتنے سرد خطے میں واقع یہ ٹھنڈا صحرا وحشت کے ماروں کی دلداری بھی کرتا ہے اور دل آزاری بھی۔ خاک اڑانے کو اس سے بہتر جگہ شاید ہی کوئی ہو۔
کٹپانا کے ٹیلے، صبح میں — فوٹو سید مہدی بخاری
کٹپانا کے ٹیلے، صبح میں — فوٹو سید مہدی بخاری
کٹپانا کے ٹیلے، رات میں — فوٹو سید مہدی بخاری
کٹپانا کے ٹیلے، رات میں — فوٹو سید مہدی بخاری
رات میں کولڈ ڈیزرٹ کا ایک خوبصورت منظر — فوٹو سید مہدی بخاری
رات میں کولڈ ڈیزرٹ کا ایک خوبصورت منظر — فوٹو سید مہدی بخاری
کولڈ ڈیزرٹ — فوٹو سید مہدی بخاری
کولڈ ڈیزرٹ — فوٹو سید مہدی بخاری
سکردو کے بازار سے آگے ایک سڑک دنیا کے بلند ترین پہاڑی میدان دیوسائی کو مڑ جاتی ہے اور اسی بل کھاتی سڑک پر سدپارہ جھیل پر نظر پڑتی ہے جہاں اب ڈیم تعمیر کیا جا چکا ہے۔ سدپارہ کی جھیل کا پانی راتوں رات چڑھ جاتا ہے۔ ایک اکلوتا ہوٹل جھیل کے کنارے کھڑا ہے، اور آدھا پانی میں ڈوب چکا ہے، صرف تین کمرے باقی بچے ہیں۔ پورے چاند کی رات میں سدپارہ جھیل سفید جادو کرتی ہے جو کالے جادو سے زیادہ کشش رکھتا ہے۔
سفروں میں گزری ایک رات کے پچھلے پہر میری آنکھ کھلی ۔ دروازہ کھول کے باہر نکلا تو باہر منظر ہی عجب تھا۔ پانی کی سطح بہت اوپر تک چڑھ آئی تھی اور کمروں کے باہر بنے لان جہاں میں بیٹھا تھا وہ اب دو تین انچ پانی میں تھے۔ سامنے چودھویں کا چاند ٹکا تھا اور پانی دودھیا ہوگیا تھا۔ ایسی وحشت کی رات تھی کہ دل چاہنے لگا جھیل میں ڈبکی لگا کر اس کے پاتال میں اتر جاؤں۔ پورے چاند کی راتوں میں کسی بھی جھیل پر ایسی وحشت طاری ہوجاتی ہے۔ میں اب کبھی کبھی گھر میں بیٹھا سوچتا ہوں کہ چاند سدپارہ پر چمک رہا ہو گا، شاید کوئی میری طرح کا دیوانہ دیکھتا ہو، اور شاید کوئی جھیل میں غرق بھی ہو گیا ہو۔
سدپارہ جھیل کے کنارے — فوٹو سید مہدی بخاری
سدپارہ جھیل کے کنارے — فوٹو سید مہدی بخاری
سدپارہ جھیل، اور ستاروں سے بھرا آسمان — فوٹو سید مہدی بخاری
سدپارہ جھیل، اور ستاروں سے بھرا آسمان — فوٹو سید مہدی بخاری
سدپارہ جھیل پر صبح کا منظر — فوٹو سید مہدی بخاری
سدپارہ جھیل پر صبح کا منظر — فوٹو سید مہدی بخاری
یہ اسکردو کا ہی خاصہ ہے کہ قدرت نے اسے ہر زیور سے آراستہ کیا۔ جھیلیں، صحرا، دریا، باغات، دنیا کی بلند ترین چوٹیاں، کیا ہے جو اسکردو میں نہیں۔ بالکل بلتی دُلہن کی طرح سجی یہ وادی سر سے پاؤں تک قابلِ دید ہے۔ انسان کی یادوں کا بھی ایک دفتر ہوتا ہے جو کھلتا ہے تو کھلتا ہی چلا جاتا ہے، فائلیں اوپر نیچے لگنے لگتی ہیں۔ سفر میں گزرے روز و شب فلم کی طرح آنکھوں اور دماغ کے پردے پر چلنے لگتے ہیں۔ اسکردو سے جڑی ٹھنڈی یادیں پنجاب کے حبس زدہ موسم میں شدت سے گھیر لیتی ہیں۔
پہاڑوں میں سورج جلدی ڈوب جاتا ہے لیکن کافی دیر تک ہلکی روشنی رہتی ہے۔ سورج غروب ہونے اور رات آنے کے بیچ کافی وقت ایسا ہوتا ہے جیسا بھور سَمے ۔۔۔۔ نہ دن ہوتا ہے نہ رات ۔۔۔ ایسے ہی ایک وقت میں چلتے چلتے رک کر دیکھا تو ایک گھر کی کھُلی کھڑکی سے بلتی بچے نے جھانکا اور اپنے ایک ہاتھ سے بائے بائے کرنے لگا۔ سارے دن کی تھکن سبز آنکھوں والے بچے کی اس حرکت سے ختم ہو گئی تھی، پھر کھڑکی بھی بند ہو گئی۔
اس پہاڑی کچی پگڈنڈی پر دور تک کوئی نہیں تھا، آہستہ آہستہ نیچے وادی میں آباد گھروں کی بتیاں جلنا شروع ہوئیں، دیکھتے دیکھتے وادی ٹم ٹم کرنے لگی۔ رات پھیلی تو پگڈنڈی چھوڑ کر مسافر مرکزی سڑک پر آ گیا۔ سڑک کے دونوں کنارے خشک پتوں سے بھرے ہوئے تھے۔ ہوا چلی تو پتوں نے کناروں کو چھوڑا اور تارکول کے اوپر رقص کرنے لگے۔ ہوا کے دباؤ سے خشک پتے لڑکھڑاتے جاتے تھے۔
— فوٹو سید مہدی بخاری
— فوٹو سید مہدی بخاری
— فوٹو سید مہدی بخاری
— فوٹو سید مہدی بخاری
یہ خزاں کا موسم تھا۔ دور کہیں اسپیکروں سے نوحے کی آواز آ رہی تھی۔ محرم کا آغاز تھا تو وادی میں ویسے ہی اداسی تھی۔ خزاں کی افسردہ رات میں دور سے گونجتے بین ماحول کو مزید سوگوار بنا دیتے ہیں۔ میرا دل چاہنے لگا کہ وادی میں ریل کی سیٹی بھی گونجے، لیکن ہمارے شمال میں ریل نہیں چلتی۔ مجھے یاد آنے لگا کہ ایسی ہی سرد افسردہ راتوں میں کئی سال پہلے ریل گزرنے کی آواز سنا کرتا تھا بلکہ جاگ کر ریل کی سیٹی کا انتظار کیا کرتا تھا، سیٹی سنے بغیر نیند نہیں آتی تھی۔ چلتی ریل کی سیٹی، خزاں کے لڑکھڑاتے پتے، بچے کے ہاتھ کا اشارہ، اور فضا میں گونجتا نوحہ یہ سب جدائی کے ہی استعارے تھے۔
خیالوں میں گم چلتے چلتے گلگت بلتستان اسکاؤٹس کی ایک چیک پوسٹ پر بیٹھے جوان نے سیٹی بجائی تو ریل کی سیٹی سے دھیان ٹوٹ گیا۔ پہلے اس نے شناختی کارڈ چیک کیا، پھر بولا "محرم کے دنوں میں چیکنگ زیادہ کرنی پڑتی ہے، معافی چاہتا ہوں، آپ کچھ لے کر تو نہیں چل رہے؟" دل تو چاہا کہ کہہ دوں کہ ہاں لے کر چل رہا ہوں ۔۔۔۔ خیال اور خشک پتے ۔۔۔ پر جواب میں بس زبردستی کا مسکرانا پڑا۔
کٹپانا ولیج، اسکردو — فوٹو سید مہدی بخاری
کٹپانا ولیج، اسکردو — فوٹو سید مہدی بخاری
برالدو دریا — فوٹو سید مہدی بخاری
برالدو دریا — فوٹو سید مہدی بخاری
— فوٹو سید مہدی بخاری
— فوٹو سید مہدی بخاری
کچورا جھیل پر رات کا منظر — فوٹو سید مہدی بخاری
کچورا جھیل پر رات کا منظر — فوٹو سید مہدی بخاری
کچورا جھیل — فوٹو سید مہدی بخاری
کچورا جھیل — فوٹو سید مہدی بخاری
ہوٹل پہنچا تو منہ دھوتے ہوئے آئینہ دیکھا، بالوں میں پتہ اٹکا تھا۔ مجھے پتہ نہیں کیا سوجھی میں نے وہ میپل کا چھوٹا پتہ اپنے کیمرا بیگ کی ایک جیب میں رکھ دیا۔ ابھی بھی سامنے ہی پڑا ہے۔ کچھ دیر پہلے ریل گزری اور اس کا بھونپو بجا تو نظر خود بخود اس پتے پر چلی گئی جو کمرے کی میز پر رکھا تھا۔
اسکردو کی یادوں کا سمندر ایک بار پھر بپھر چکا تھا۔

ہندوستانی ہیروز کو خراج عقیدت مذاق بن گیا


چندی گڑھ: ہندوستانی شہر چندی گڑھ میں انتظامیہ نے اس وقت اپنے ہی ہیروز اور فوج کا مذاق بنا دیا جب انہوں نے ملک کے لیے قربانی دینے والے ہیروز کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے لگائے گئے ہورڈنگ میں امریکی فوجیوں کی تصویر لگا دی۔
ہندوستانی خبر رساں ادارے این ڈی ٹی وی کے مطابق یہ ہورڈنگ مقامی میونسپل کارپوریشن کی جانب سے منعقدہ ایک پروگرام کے لیے بنایا گیا تھا جس میں شہر کی میئر پونم شرما اور سینئر فوجی افسر لیفٹننٹ جنرل کے جے سنگھ نے شرکت کرنی تھی۔
23 مارچ کو آزادی ہند کے مشہور ہیروز بھگت سنگھ، راج گرو اور سکھ دیو کی برسی ہوتی ہے۔
اس ہورڈنگ میں تین فوجیوں کو محاذ پر تیار دکھایا گیا جن کی وردیوں پر امریکی جھنڈا لگا ہوا ہے جبکہ عقب میں ہندوستان کا جھنڈا اور فوج کا لوگو لگایا گیا ہے۔
اس حوالے سے جب میئر پونم شرما سے پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ وہ معاملے کی تحقیقات کرائیں گی۔
بھارتیہ جنتا پارٹی کے سینئر رہنما ستیا پال جین نے کہا کہ یہ بہت افسوسناک بات ہے، ہم یہ دن اپنے ان ’شہدا‘ کو یاد کرنے اور انہیں خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے منا رہے ہیں جن کی بدولت ہم نے آزادی حاصل کی، حکام کو اس حوالے سے محتاط رہنا چاہیے تھا۔

پاکستان میں ورڈ پریس پر پابندی؟


اسلام آباد: بلاگنگ کے مشہور عالمی پلیٹ فارم Wordpress.com تک اچانک رسائی ختم ہو جانے پر پاکستان میں انٹرنیٹ صارفین حیران ہیں۔
یہ ویب سائٹ اتوار کو انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے والی کچھ بڑی کمپنیوں پر دستیاب نہیں تھی۔
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی نے واضح نہیں کیا کہ آیا یہ پابندی سرکاری ہے یا نہیں۔
قیاس آرائیوں کے مطابق، ویب سائٹ کو یوم پاکستان پریڈ کی سیکورٹی تیاریوں کی وجہ سے بند کیا گیا ہے۔ تاہم، ان اطلاعات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔
پی ٹی اے ترجمان نے رابطہ کرنے پر اس حوالے سے کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔
ورڈ پریس انٹرنیٹ صارفین کو آسان طریقہ سے ذاتی ویب سائٹس بنانے میں مدد کرتا ہے۔
پاکستان میں ہزاروں صارفین اور کاروبار ورڈ پریس کو اپنے بلاگز اور ویب سائٹس کی ہوسٹنگ کیلئے استعمال کرتے ہیں۔

پاکستان کی سمندری حدود میں اضافہ


اسلام آباد: اقوام متحدہ میں پاکستان سمندری حدود بڑھانے کا مطالبہ منظور کر لیا۔
ڈان نیوز کے مطابق اقوام متحدہ نے پاکستان کا کانٹینینٹل شیلف بڑھانے کامطالبہ منظور کرلیا ہے۔
پاک بحریہ کے ترجمان کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ پاکستان کی سمندری حدود میں 50ہزار مربع کلو میٹر کا اضافہ ہوا ہے۔
ترجمان کے مطابق پاکستان خطے کا پہلا ملک ہے جس کی سمندری حدود میں اضافے کا مطالبہ منظور کیا گیا ہے۔
ترجمان پاک بحریہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ پاکستان کی سمندری حدود بڑھنے سے ملک کے وسائل میں اضافہ ہوگا۔
بحریہ کے ترجمان نے بتایا کہ پاکستان نے 200 سے 350 ناٹیکل میل تک حدود بڑھانے کا دعویٰ کیا تھا۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ سمندری حدود میں اضافے کا منصوبہ 2005 میں شروع کیا گیا، سمندری حدود میں اضافے کامنصوبہ پاکستان بحریہ اور نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہائیڈرو گرافی نے شروع کیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ منصوبہ وفاقی وزرات سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کی سرپرستی میں مشترکہ طور پر شروع کیا گیا تھا جس کا مقصد وسائل پر پاکستان کا مکمل اختیار حاصل کرنا تھا۔

فلم ریویو : جلیبی جس کی چاشنی طلب بڑھا دے

لولی وڈ کی نئی فلم جلیبی ڈائریکٹر یاسر جسوال کی تیز رفتار کرائم ڈراما فلم ہے اور یہ بیس مارچ کو ملک بھر کے سینماﺅں میں ریلیز کی جارہی ہے۔
جلیبی مسکوٹ : 73 فورڈ مستانگ
جلیبی مسکوٹ : 73 فورڈ مستانگ
اس فلم کا پریمئیر گزشتہ دنوں ہوا جس میں اسٹارز نے شرکت کرکے تقریب کو چار چاند اور ہمیں اس کی کہانی کو جانچنے کا موقع فراہم کیا۔

فلم کی کہانی

جلیبی ناظرین کی منتظر
جلیبی ناظرین کی منتظر
یہ کوئی راز نہیں کہ پاکستانی پراسرار نامعلوم افراد کے وہم کے شکار ہیں (خاص طور پر ان دنوں) اور یاسر جسوال کی جلیبی بھی اس تھیم سے کچھ زیادہ دور نہیں۔
دو دوستوں کی فلم کے مرکزی کرداروں میں مزاح سے محروم بلو (دانش تیمور) اور تفریح کے دلدادہ بگا (علی سفینہ) شامل ہیں جو کہ چھوٹے پیمانے کے دھوکے باز ہیں جو قرضے، جرم، ڈکیتی اور قتل کے بگولوں میں پھنس جاتے ہیں۔
فلم کے آغاز میں بگا اور بلو اپنی زندگیوں کی سب سے بڑی دوہری مشکل میں اس وقت پھنس جاتے ہیں جب وہ شہر کے پراسرار مافیا ڈان (جسے بادشاہ بھی کہا گیا ہے) کی ایک بینک ڈکیتی کو خراب کردیتے ہیں اور اب یہ ڈان ڈارا (عدنان جعفر) چاہتا ہے کہ یہ دونوں ایک دن کے اندر اسے پانچ کروڑ روپے ادا کریں۔
یہ کہانی کا وہ دائرہ ہے جو لاتعداد دیگر فلموں میں بھی پیش کیا جاچکا ہے۔
تاہم یہ کہانی اس وقت دلچسپ ہوجاتی ہے جب یہ دونوں دوست بیرون ملک سے واپس آنے والے علی (وقار علی خان) اور اس کے بھائی جمی (عذیر جسوال) سے ملتے ہیں، یہ دونوں اسی مافیا سے اپنے والد کا قتل کا بدلہ لینے کے خواہشمند ہوتے ہیں جنھیں ان کے بچپن میں ہلاک کیا جاتا ہے۔
علی سفینہ اور دانش تیمور فلم جلیبی کے ایک سین میں
علی سفینہ اور دانش تیمور فلم جلیبی کے ایک سین میں
اب علی جان بوجھ کر ایک ایسی سیاسی جماعت کے سربراہ بیٹی ایمان (شکیبہ امام) سے پیار کی پینگیں بڑھا رہا ہوتا ہے جس کے جلد وزیراعظم بننے کا امکان اور اس مافیا کا گاڈ فادر تصور کیا جاتا ہے۔
جب ایمان اپنے والد (ساجد حسن) کے بارے میں کچھ اہم معلومات فراہم کرتی ہے تو علی ایمان کے والد کو اغوا کرنے اور اس کی حقیقت میڈیا کے سامنے لانے کا منصوبہ تیار کرتا ہے، مگر بلو اور بگا سے ملنا ایسی پیچیدگیوں کا باعث بن جاتا ہے جس کی اسے توقع تک نہیں ہوتی۔
کہانی میں پیار کی ازلی تکون بھی ہے یعنی ژالے سرحدی جو بنوں نامی جدید عہد کی طوائف کے روپ میں نظر آئی ہیں، جس سے بلو اور بگا رابطہ کرتے ہیں تاکہ اپنا قرضہ ادا کرسکیں اور اس موقع پر وہ علی کے عشق مین گرفتار ہوجاتی ہے اور وہ ہر طرح سے اس کی مدد کی خواہشمند ہوتی ہے۔
ژالے سرحدی جو فلم میں بنوں کا کردار ادا کررہی ہیں
ژالے سرحدی جو فلم میں بنوں کا کردار ادا کررہی ہیں
چونکہ فلم کا نام جلیبی ہے تو اسی لیے اس ایکشن تھرلر فلم میں کافی پیچ و کتم نظر آتے ہیں، جبکہ اس کا اختتام کافی طویل اور دیکھنے والوں کے لیے اس کو کاٹ چھانٹ کرنا چاہئے تھا تاکہ فلم کو زیادہ مصالحے دار بنایا جاسکتا۔
اس کے باوجود سینما فوٹوگرافر مو اعظمی کی صلاحیت پاکستان کے مختلف پہلوﺅں کو فلم کے کرداروں سے توجہ ہٹائے بغیر سامنے لاتی ہے جو کہ قابل تعریف ہے، اس کے علاوہ بھی اس فلم میں اینیمیشن سے لائیو ایکشن کا امتزاج بھی زبردست ہے۔
کیمرہ کی حرکت، اینگلز اور کرداروں کے کلوز اپ شاٹس ڈائیلاگ سے زیادہ کہانی کو بیان کرتے ہیں، ہائی کوالٹی ویژولز بھی اے آر آر آئی الیکسا ایچ کیمرے کی خاصیت ہے جس پر پوری فلم شوٹ ہوئی ہے۔
فلم کا اینیمیٹیڈ انداز
فلم کا اینیمیٹیڈ انداز
اس کی موسیقی قیاس، عذیر جسوال اور حیمرا ارشد کی ہے جو کہ فلم کے ردھم اور رفتار سے میل کھاتی نظر آتی ہے۔
تاہم فلم کی خامی شکیبہ امام اور وقار علی خان کی جوش و خروش سے محروم اداکاری ہے، وقار کا ڈائیلاگ ادا کرنے کا انداز ایسا ہے جیسے وہ کسی میوزک چینیل میں کوئی گانا متعارف کرا رہے ہو، جبکہ شکیبہ کا کردار ایسا ہے جیسے کوئی ٹی وی شو میں توقع کررہا ہو کہ اس کے چہرے کی سرجری ہونے والی ہو۔
اگر علی سفینہ کا بے عیب مزاح اور ژالے سرحدی کی بے ساختہ ڈائیلاگ ڈیلیوری نہ ہوتی تو میں خود کو ڈوپٹے میں ڈھانپ کر فلم سینما کے ٹھنڈے فلور میں سوتے ہوئے وقت گزارتی۔
ساجد حسن فلم میں مافیا باس کے کردار میں
ساجد حسن فلم میں مافیا باس کے کردار میں
مگر ان دونوں بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی زبردست انداز میں نمائندگی کی اور مجھے اونگھنے سے روکے رکھا۔
مجھے حیرت نہیں ہوگی اگر ماڈل سے اداکاری کی جانب آنے والی ژالے سرحدی کسی بین الاقوامی ڈائریکٹر کی نظروں میں آکر اگلی فریدہ پنٹو بن جائیں۔
ایک آئٹم نمبر میں وہ پرکشش نظر آئیں اور فلم کے کمزور ترین حصے کو کلاسیک بنادیا۔
فلم میں ایک اور زبردست کام بڑے ولن دارا نے سرانجام دیا جو عدنان جعفر نے ادا کیا، اس طرح کے کرداروں کے ذریعے اوپر تک جانا بہت آسان ہے مگر انہوں نے ڈرامائی انداز کو کم سے کم برقرار رکھا ہے۔
یہ دیکھنا بہت اچھا لگتا ہے کہ پاکستانی سینما اس مقام پر پہنچ گیا ہے جہاں کسی مقامی فرد کو فلم دیکھنے کے لیے محض اس لیے نہیں جانا پڑتا کیونکہ وہ پاکستانی" اور " ہماری" ہے، اور نہ اب ہمیں آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر انہیں دیکھ کر خود کو محب الوطن ثابت کرنے کی ضرورت پڑتی ہے چاہے وہ کتنی بھی بیزارکن اور نرم ہو۔
پاکستانی فلمیں حب الوطنی کے منتر سے ہٹ کر بھی خود کو روشن بنانے اور لوگوں کو سینماﺅں کی جانب لانے کی اہلیت رکھتی ہیں۔
توقع ہے کہ جلد وہ وقت آئے گا جب پاکستانی فلموں کے ریویو جو ڈائریکٹر کی انا کو توڑنے کے لیے نہیں ہوں گے بلکہ ان کے اسکرپٹ کے تنوع اور اپچ، تھیم، کرداروں اور مجموعی اداکاری و ہدایتکاری کی پیشکش کو دیکھتے ہوئے حقیقی جائزہ اور تنقید کی جائے گی۔

Jobs Announced in Pakistan Civil Aviation Authority



Civil Aviation Authority

Pakistan Civil Aviation Authority has announced new career opportunities to fill in several positions vacant in regulatory authority. Multiple positions announced by the Civil Aviation Authority are on the contract basis for 2 years and could be extend, if needed. Pakistan Civil Aviation Authority is looking for highly qualified and experienced candidates to fill in several position for its head office based in Karachi.








Pakistan Civil Aviation Authority is a regulatory authority which is responsible to oversees and regulates all the aspects of civil aviation in the country. It was formed in 1982 by the Government of Pakistan which owned almost all the civilian airports of Pakistan.
The current job vacancies announced by Pakistan Civil Aviation Authority, are as follows:
Flight Inspector Pilot: (1 Position-Merit)
Candidates having Bachelor degree of Science with the minimum experience of 5000 hours with Pilot in-Command rating on Commercial / Military / Transport aircraft are eligible for this position. Maximum age should be 63 years.
Additional Director: (General Aviation) (1 Position-Merit)
Candidates having BSc / BA degree with a valid commercial pilot license are eligible for this position. They must have minimum 2500 hours of flying experience including at least 1000 hours on any multiengine jet / turbo prop / piston engine aero-plane. Maximum age should be 55 years.
Assistant Air Traffic Control Officer (32 Positions)
(Merit-9, Punjab-9, Sindh (U) 2, Sindh (R) 3, Bal-2, GB-FATA 3, KPK-2, AJK-1, Minority-1)
Candidates having degree of BSc (Physics and Mathematics) / BSc (Computer Science) / BS, BE, BSc (Engineering) / BS (Aviation Management), are eligible to apply for this position. Maximum age should be 28 years.
Assistant Director IT (Database Administrator) (1 Position-Merit)
Candidates having Bachelor/Master degree in Computer Science / Software Engineering / I.T / Computer Engineering with at least 2nd division, are eligible to apply. Knowledge of different software and systems with 5 years of relevant experience, is also required for this position. Maximum age should be 40 years.
Assistant Director IT (Oracle ERP Developer) (1 Position-Merit)
Candidates having Bachelor/Master degree in Computer Science / Software Engineering / I.T / Computer Engineering with at least 2nd division, are eligible to apply for this position. Knowledge of different software and systems with 5 years of relevant experience, is also required for this position. Maximum age should be 40 years.
Assistant Director IT (Oracle Financials Functional Consultant)
(2 Positions-Merit)
Bachelor/Master degree holders in Commerce / Finance / Business Administration with at least 2nd division, are eligible to apply for this position. Knowledge of different software with 5 years of relevant experience, is also required for this position. Maximum age should be 40 years.
How to Apply:
Application Forms can be downloaded from here

Interested candidates for any of the above mentioned position can see the details of all the vacant positions and procedure to apply from here






آسٹریلیا کے خلاف جیت ممکن!


کیا اب ایسا نہیں لگنے لگا کہ ورلڈ کپ میں پاکستان کی پرفارمنس ایک اسکرپٹ کے تحت چل رہی ہے؟
ایک ایسی ٹیم جو ہوم گراؤنڈ پر اور باہر ون ڈے جیتنے کے لیے جدوجہد کر رہی تھی، اب میچ پر میچ جیت رہی ہے۔ ملک میں موجود سکیورٹی مسائل کے علاوہ ٹیم کو کئی اسکینڈلز کا بھی سامنا رہا جس کی وجہ سے محمد آصف، محمد عامر، سعید اجمل، محمد حفیظ، عمر گل، اور جنید خان جیسے کھلاڑی، جن پر پاکستان نے بے تحاشہ وسائل لگائے تھے، میدان سے باہر رہے۔
اور ان کے متبادل کے طور پر وہاب ریاض کو رکھا گیا، جن کی اچھی کارکردگی اتنی نایاب تھی کہ جب میں نے کہا کہ وہ میچ جتوانے والے آل راؤنڈر ثابت ہوسکتے ہیں، تو لوگ ہنسنے لگے۔
اس کے علاوہ سہیل خان، یاسر شاہ، راحت علی، احسان عادل، سرفراز احمد، اور صہیب مقصود کو بھی اسکواڈ میں شامل کیا گیا۔ یہ تمام کھلاڑی ایسے تھے جن کے لیے یہ ورلڈ کپ ان کے کریئر کا سب سے بڑا ٹورنامنٹ تھا۔
پھر احمد شہزاد، عمر اکمل، اور محمد عرفان کو بھی ابھی خود کو ثابت کرنا تھا، جبکہ ٹیم کے سب سے بہترین کھلاڑی ٹیم کے کپتان تھے جو کہ اکثر اکیلے ہی کشتی کو طوفانوں سے بچاتے ہیں۔
اس ٹیم میں وہ اجزا شامل نہیں تھے جو کوارٹر فائنل میں پہنچنے والی کسی بھی ٹیم میں ہوتے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود ان کی اگلے راؤنڈ تک رسائی حیران کن ہے۔
جیسا کہ امید کی جارہی تھی، پاکستان ہندوستان کے خلاف اپنا پہلا میچ ہار گیا، اور اس کے بعد اعتماد کی شدید کمی کی شکار یہ ٹیم ویسٹ انڈیز کے ہاتھوں جیسے دفن ہی ہوگئی۔ اس کے بعد اسے ناک آؤٹ مرحلے تک پہنچنے کے لیے اپنے باقی چاروں میچ جیتنے تھے، اور یہ چاروں ہی میچ اپنے آپ میں ناک آؤٹ میچ تھے۔ اگر ویسٹ انڈیز کے بعد اگلا میچ ساؤتھ افریقہ جیسی خطرناک ٹیم کے ساتھ ہوتا، تو پاکستان کے ساتھ بھی انگلینڈ والا ہی حشر ہوتا لیکن خوش قسمتی سے اسکرپٹ لکھنے والوں نے زمبابوے کو مدِ مقابل قرار دیا۔
زمبابوے کو بمشکل ہرا کر ہمارے باؤلرز نے آخرکار اپنی اس اہلیت کا مظاہرہ کیا جو اب تک چھپی ہوئی تھی اور جسے دیکھنے کے لیے ہم بے تاب تھے۔ اس جیت نے ٹورنامنٹ میں پاکستان کی بجھتی ہوئی شمع کو بھی استحکام دیا۔ اگر زمبابوے کے خلاف جیت نے باؤلرز کو اعتماد دیا، تو متحدہ عرب امارات کے خلاف جیت نے بیٹسمینوں میں خود اعتمادی کو بڑھانے میں مدد دی۔
ان فتوحات نے ٹیم کو اعتماد کے ساتھ ساتھ پریشر سے بھی نجات دلائی اور جب ساؤتھ افریقی شیر میدان میں سامنے آئے، تو ہمارے ایشیائی چیتے پہلے ہی دو ٹیموں کو شکست دے چکے تھے۔
آئرلینڈ کے خلاف پاکستان کی پرفارمنس خامیوں سے پاک تو نہیں تھے، لیکن اس کے باوجود انہوں نے تمام شعبوں میں اتنی اچھی کارکردگی دکھائی کہ کوارٹر فائنلز میں آسٹریلیا کے لیے یہ خطرہ بن سکتے ہیں۔ ٹیم کو ایک فائدہ یہ حاصل ہے کہ میزبان ٹیم کے ساتھ مقابلہ ایڈیلیڈ میں ہوگا جہاں کے حالات پاکستانی ٹیم کے لیے جانے پہچانے ہیں۔
پاکستان کا نیا اثاثہ فارم میں موجود سرفراز احمد ہیں۔ انہیں باہر رکھنے کے مینیجمنٹ کے فیصلے کو پرستاروں اور نقادوں کی جانب سے بھرپور تنقید کا نشانہ بنایا گیا، جو یہ سمجھنے میں ناکام رہے کہ آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں سرفراز احمد کو ہر موقع دیا گیا لیکن وہ کیچ پکڑنے، بیٹسمینوں کو اسٹمپ کرنے، اور رنز بنانے میں ناکام تھے۔
فواد عالم کی طرح سرفراز کے کیس کو بھی کراچی کے کھلاڑیوں سے ناانصافی سمجھا گیا۔
کیا مینیجمنٹ نے ناصر جمشید کو بہت عرصے تک برداشت کیا؟ ہاں، یہ درست ہے۔ لیکن اسے کراچی والوں کے ساتھ ناانصافی قرار دینا ناقابلِ برداشت ہے۔
اسکواڈ میں کراچی سے تعلق رکھنے والے کئی کھلاڑی ہیں جن میں چیف سلیکٹر بھی شامل ہیں۔ اسد شفیق جیسے کھلاڑیوں کو لاتعداد چانس دیے گئے لیکن وہ محدود اوورز والے گیم میں اچھی کارکردگی دکھانے میں ناکام رہے۔
فواد عالم اور سرفراز کے کیس کو وقار یونس جیسے فیصلہ سازوں کی تکنیکی غلطی قرار دیا جا سکتا ہے۔ لیکن اس زبردست فاسٹ باؤلر نے اکیلے ہی پانچ فاسٹ باؤلرز کو ایک خطرناک اثاثے میں تبدیل کر دیا ہے۔ آئرلینڈ کے خلاف آخری دس اوورز کی پرفارمنس خاص طور پر قابلِ تعریف ہے جس میں آئرلینڈ صرف 49 رنز پر پانچ وکٹیں گنوا بیٹھا۔
ایک اور کھلاڑی جنہیں ان کے حق سے زیادہ مواقع ملتے ہیں، وہ شاہد آفریدی ہیں۔ ان پر تنقید کرنے والے ان کی خراب بیٹنگ اور باؤلنگ اوسط کو بنیاد بنا کر انہیں باہر بٹھانے پر زور دیتے ہیں۔
اگر اعداد و شمار کی بات کی جائے، تو ہاں یہ بات درست ہے۔ ان کی ٹیم میں شمولیت اکثر سمجھ سے باہر ہوتی ہے، لیکن بوم بوم آفریدی کے اعداد و شمار ہی سب کچھ نہیں ہیں۔
سب سے زیادہ مین آف دی میچ ایوارڈ حاصل کرنے والے کھلاڑیوں میں آفریدی پانچویں نمبر پر ہیں۔ صرف ایک اور ایوارڈ، اور وہ سچن ٹنڈولکر اور سنتھ جیسوریا کے قریب پہنچ جائیں گے۔
انہوں نے لسٹ میں موجود کئی لوگوں سے زیادہ میچز کھیلے ہیں، لیکن اوسطاً وہ ہر بارہ میچز کے بعد ایک مین آف دی میچ ایوارڈ جیتتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اوسطاً ہر بارہ میچز کے بعد ہمارا یہ سپر اسٹار ایسا جادو چلانے میں کامیاب ہو سکتا ہے، جو پاکستان کو فتح کی جانب لے جائے۔
اگر اگلے تین ناک آؤٹ میچز میں آفریدی کا جیک پاٹ لگ جائے، تو ان کے اعداد و شمار بے معنی ہی ہوں گے۔
یاسر شاہ کی بات کی جائے، تو ان کے کھیلنے کے امکانات کم ہیں اور یہ دیکھنا باقی ہے کہ کیا پاکستان آسٹریلیا کے خلاف اس لیگ اسپنر کی کمی محسوس کرے گا یا نہیں۔ آئرلینڈ کے خلاف ان کو نہ کھلانے پر بہت تنقید ہوئی، لیکن جب محمد عرفان ان فٹ ہیں، تو ان کی جگہ احسان عادل کو کھلانا ایک بہت ہی بروقت اور اچھا فیصلہ تھا۔
ہاں کچھ شبہات موجود ہیں۔ مگر زیادہ تر پاکستانی بیٹسمین اب بھی بڑا اسکور کرنے میں ناکام ہیں۔ سرفراز احمد کی وکٹوں کے درمیان دوڑ کا جذبہ قابلِ تعریف ہے، لیکن ان کی وجہ سے حارث سہیل آؤٹ ہوئے، اور وہ خود بھی رن آؤٹ ہونے والے تھے لیکن عمر اکمل کی وجہ سے بچ گئے۔
بس اب ہمارے دو نوجوان بیٹسمینوں عمر اکمل اور صہیب مقصود کو اپنی مکمل فارم میں کھیلنا ہوگا۔ امید ہے کہ وہ فاسٹ باؤلرز کی کارکردگی سے مثال حاصل کریں گے۔
اور اگر ایسا ہوتا ہے تو ہمارے چیتوں کو روکنا ناممکن ہوگا۔